وزیر اعظم 7سوالات کے جواب دیں: عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حکومتی نا اہلی کا نتیجہ ہے، پی ٹی آئی

  • ایڈہاک جج مقرر کیوں نہیں کیا؟ ایسے وکیل کا انتخاب کیوں کیا جس نے عالمی عدالت انصاف میں کبھی کوئی مقدمہ ہی نہیں لڑا؟
  • اٹارنی جنرل کی بجائے جونیئر معاون کو کیوں بھجوایا؟ قطر سے تعلق رکھنے والے وکیل کو اس مقدمے کیلئے کیوں منتخب کیا؟

پی ٹی آئیاسلام آباد(آن لائن)کلبھوشن یادو کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف کی کارروائی کے بارے میں تحریک انصاف نے وزیر اعظم پاکستان سے سات اہم سوالات کے تفصیلی جواب مانگ لیئے ۔ سوالات تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کی جانب سے اٹھائے گئے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم بتائیں پاکستان نے پورا حق رکھنے کے باوجود ایڈہاک جج مقرر کیوں نہیں کیا؟بتایا جائے دفتر خارجہ نے اس معاملے پر خط و کتابت کرنے سے پہلے ضروری قانونی مشاورت کیوں حاصل نہیں کی؟پاکستان نے ایسے وکیل کا انتخاب کیوں کیا جس کے نام پر برطانوی سپریم کورٹ کا ایک بھی اعلان شدہ مقدمہ موجود نہیں؟انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ وزیر اعظم وضاحت کریں کہ ایسے وکیل کا انتخاب کیوں کیا گیا جس نے آزادانہ طور پر عالمی عدالت انصاف میں کبھی کوئی مقدمہ ہی نہیں لڑا؟وزیر اعظم جواب دیں کہ اٹارنی جنرل کو بھجوانے کی بجائے انکے سالِ اول کے ایک معاون کو عالمی عدالت انصاف کیوں بھجوایا؟وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ پاکستان نے اپنا تحریری دفاع 15 مئی سے قبل کیوں جمع نہیں کروایا؟ وزیر اعظم یہ بھی جواب دیں کہ انکی حکومت نے قطر سے تعلق رکھنے والے وکیل (لندن کیو سی) کو اس مقدمے کیلئے کیوں منتخب کیا؟اس حوالے سے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان شفقت محمود نے کہا کہ اس معاملے پر وضاحت حاصل کئے بغیر خاموش نہیں ہوں گے۔کلبھوشن یادو پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حکومتی نااہلی کا افسوسناک نتیجہ ہے۔بند کمروں اور خفیہ اجلاسوں میں اختیار کی گئی حکمت عملی اسی نوعیت کی ناکامیاں لے کر آتی ہے۔ شفقت محمود کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار پر حکومت پاکستان کے مو¿قف پر اول روز سے سوالات اٹھائے گئے۔اس تاثر میں پختگی آئی ہے کہ نواز حکومت نے جان بوجھ کر اس معاملے پر کمزور اور ناقص حکمت عملی اختیار کی۔آج کے فیصلے کو جندال کی نواز شریف سے ملاقات کا ثمر کہنا بھی درست دکھائی دے رہا ہے۔خفیہ فیصلوں اور درپردہ عزائم میں لپٹی ہوئی قومی سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسیاں انتہائی مہلک ہیں۔ شفقت محمود نے مزید کہا کہ روز اول سے کہتے آئے ہیں کہ وزیر اعظم انفرادی فیصلوں کی بجائے پارلیمان کو فیصلہ سازی کا ذریعہ بنائیں۔قومی سلامتی، دفاع اور خارجہ امور پر دیگر معاملات سے کہیں زیادہ سنجیدگی کے متقاضی ہوتے ہیں۔مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے مقدم رکھی جائے تو غلطیوں سے بچا جاسکتا ہے۔انہوں وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم پارلیمان کو پورے معاملے پر مفصل وضاحت پیش کریں۔ اوروزیراعظم جندال سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی ایوان کے سامنے پیش کریں

Scroll To Top