قومی اسمبلی اجلاس: فاٹا اصلاحات بل موخر کرنے پر اپوزیشن کا شدید احتجاج

  • فاٹا اصلاحات کی مخالفت کرنے والے حکمران اتحاد میں بیٹھے ہیں، شاہ محمود قریشی ،حکومت کا فاٹا کے عوام کے ساتھ رویہ افسوسناک ہے، خورشید شاہ

فاٹا اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی اجلاس کے دوران فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فاٹا کے عوام کو لالی پاپ دے رہی ہے ،کسی کی ”نو یا یس “سے کام نہیں چلے گا ،ورنہ پارلیمنٹ ختم کر دیں ، فاٹا اصلاحات کیمخالفت کرنے والے حکمران اتحاد میں بیٹھے ہیں جبکہ وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ نے واضح کیا ہے کہ فاٹا اصلاحات 36 نکات پر مشتمل ہیں جس میں ایف سی آر کا خاتمہ اور فاٹا کا انضمام سر فہرست ہیں ، وزیراعظم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی خبر درست نہیں ۔ جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ایک رکن اسمبلی کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر فاٹا اصلاحاتا کا بل پارلیمنٹ میں لایا گیا تو لڑائی ہو گی ،ایک رکن کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد حکومت نے فاٹا اصلاحات بل روک لیا۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کا فاٹا کے عوام کے ساتھ رویہ افسوسناک ہے، حکومت فاٹا کے عوام کو لالی پاپ دے رہی ہے۔خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت فاٹا اصلاحات کے معاملے پر اپنے اتحادیوں کے ذریعے مخالفت کرا رہی ہے ، کسی کی نو یا یس سے کام نہیں چلے گا، ورنہ پارلیمنٹ ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اس پر ملکی قانون لاگو ہوتا ہے، کسی کو پاکستان کا آئین و قانون پسند نہیں تو میں کیا کہوں؟ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کی مخالفت کرنے والے حکمران اتحاد میں بیٹھے ہیں، حکومت نے اجلاس فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ہی بلایا تھا اور حکومت کو اپنے اتحادیوں کو پہلے اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔محمود خان اچکزئی نے فاٹا اصلاحات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے کوئی مجھے آئین کا درس دینے کی کوشش نہ کرے۔ جب ڈیورنڈ لائن موجود نہیں تھی تب بھی خیبر ایجنسی کا وجود تھا، پاکستان بنا تو ایف سی آر لاگو کیا گیا، ایف سی آر بلوچستان اور کچھ دیگر علاقوں کے لئے لایا گیا تھا، 1947 سے پہلے ایف سی آر فاٹا پر لاگو نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے صرف 4 آرٹیکلز کا اطلاق فاٹا پر ہوتا ہے، آپ 280 آرٹیکل ان کے گلے میں ڈال رہے ہیں، فاٹا کے عوام کی مرضی کے بغیر کچھ کیا گیا تو زیادتی ہو گی۔ انگریز اور افغان حکومت میں طے پایا تھا کہ طورخم سے جمرود تک کا علاقہ دونوں ممالک کا حصہ نہیں ہو گا، علاقے میں دونوں اطراف سے کوئی مداخلت ہوئی تو بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔محمود خان اچکزئی نے فاٹا اصلاحات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے کوئی مجھے آئین کا درس دینے کی کوشش نہ کرے۔ جب ڈیورنڈ لائن موجود نہیں تھی تب بھی خیبر ایجنسی کا وجود تھا ، پاکستان بنا تو ایف سی آر لاگو کیا گیا ،ایف سی آر بلوچستان اور کچھ دیگر علاقوں کےلئے لایا گیا تھا ، 1947 سے پہلے ایف سی آر فاٹا پر لاگو نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے صرف 4 آرٹیکلز کا اطلاق فاٹا پر ہوتا ہے ، آپ 280 آرٹیکل ان کے گلے میں ڈال رہے ہیں، فاٹا کے عوام کی مرضی کے بغیر کچھ کیا گیا تو زیادتی ہو گی ،انگریز اور افغان حکومت میں طے پایا تھا کہ طورخم سے جمرود تک کا علاقہ دونوں ممالک کا حصہ نہیں ہو گا، علاقے میں دونوں اطراف سے کوئی مداخلت ہوئی تو بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ قبائلیوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے ،سرتاج عزیز نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ نہیں نبھایا۔رکن فاٹا شاہ جی گل آفریدی نے مسلسل بغیر مائیک کے احتجاج کیا جس پر اسپیکر نے انہیں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کوباہر بھجوادوں گا۔اسپیکر نے شاہ جی گل آفریدی کو آواز نیچے رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات کرنے کاطریقہ نہیں۔وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا اصلاحات 36 نکات پر مشتمل ہیں جس میں ایف سی آر کا خاتمہ اور فاٹا کا انضمام سر فہرست ہیں، گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی غلط خبر چلی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اتحادیوں کو 36 میں سے چند نکات پر اعتراض ہے اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے، فاٹا اصلاحات اور رواج ایکٹ سے متعلق وزیر اعظم کا کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ ریاستوں و سرحدی امور کے وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ہم نے جس آئین کا حلف اٹھایا ہے اس کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل (1) کے تحت قبائلی علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ کہا گیا ہے۔ آئین میں بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں کی تعریف کی گئی ہے، صدر مملکت کو آئین کے تحت اختیار حاصل ہے کہ صدر پاکستان قبائلی علاقوں کے حوالے سے قبائلی جرگہ کی سفارشات پر کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ساری کارروائی قبائلی جرگہ کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔ سفارشات کے 36 نکات میں سے ایک نکتہ ہے کہ پانچ سال کی مدت میں فاٹا کا انضمام ہوگا اور ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ایف سی آر کا خاتمہ ہوگا۔ اس کے لئے ہم نے ریگولیشن کی بجائے رواج ایکٹ کو ایوان میں پیش کیا، بل قائمہ کمیٹی میں گیا ہے اور رپورٹ آنے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش ہوگی۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ انہیں فاٹا کے حوالے سے امور کا جائزہ لینے کا وقت دیا جائے اور جلدی نہ کی جائے۔ گزشتہ روز وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ٹیلی فون پر بات کا تاثر دیا گیا ہے نہ وزیراعظم نے مجھے کوئی ہدایت کی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہماری کمیٹی کے ارکان سے بات ہوئی ہے تاکہ رواج ایکٹ کے خدوخال پر بات کرکے اس کو حتمی شکل دی جاسکے۔ گزشتہ روز فاٹا کے ارکان سے بات ہوئی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ پہلے فاٹا کے انضمام کو حتمی شکل دی جائے، رواج ایکٹ ایف سی آر کا نعم البدل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے تاہم اتحادیوں کی طرف سے حکومت پر کوئی دباﺅ نہیں ، فاٹا میں دس سالہ ترقیاتی کام شروع کررہے ہیں ، ہم اہم قانون سازی کو جلدی میں نہیں کرنا چاہتے۔

Scroll To Top