کلبھوشن معاملہ: پیپلز پارٹی کا قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ

  • پاکستان کا عَلم گرنے نہیں دیں گے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، فاٹا اصلاحات بل معاملے پر فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ کرلیا

پیپلز پارٹیاسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کے کیس میں مس ہینڈلنگ کی گئی ہے، عالمی عدالت میں پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے معاملے پر عالمی بیانیہ مستحکم انداز میں نہیں پیش کیا گیا ،عالمی عدالت میں ہمارے وکیل نے کمزوراندازمیں موقف پیش کیا اور مقررہ 90منٹ کی بجائے صرف50منٹ میں ہی دلائل دئیے،ہمارے وکیل کوکلبھوشن کی دہشتگردی کی سرگرمیاں بتانی چاہئے تھیں،پاکستان کے مقابلے میں بھارت پوری تیاری کرکے عالمی عدالت گیا، قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو ایڈہاک جج کا تقرر کرانا چاہیے تھا،10 مئی تک پاکستان کے پاس ایڈہاک جج کا تقرر کا حق موجود تھا ،حکومت پاکستان بہت کچھ کرسکتی تھی،ہمیں تشویش ہے جو اقدامات ہونا چاہیے تھے وہ نہیں اٹھائے گئے ۔ جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدرسینیٹر شیریں رحمان نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ندیم افضل چن، مصطفی نواز کھوکھر اور نذیر ڈھوکی کے ہمراہ زرداری ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عالمی عدالت کے فیصلے پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر شیریں رحمان نے کہا کہ عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس پر حکومت کی تیاری نہیں تھی، حکومت پاکستان بہت کچھ کرسکتی تھی، کلبھوشن نہ صرف بھارتی جاسوس ہے بلکہ تخریب کاری کرتے ہوئے ہماری سر زمین سے پکڑا گیا جس کے پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد تھے،کلبھوشن آپ کی سرزمین سے پکڑاگیاآپ کے پاس مضبوط پوائنٹ ہے،وکیل کوکلبھوشن کی دہشتگردی کی سرگرمیاں بتانی چاہئے تھیں، کلبھوشن کے کیس میں مس ہینڈلنگ کی گئی ہے،کلبھوشن کے معاملے پر عالمی بیانیہ مستحکم انداز میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو اپنے ایڈہاک جج کا تقرر کرانا چاہیے تھا ، 10 مئی تک پاکستان کے پاس ایڈہاک جج کا تقرر کا حق موجود تھا ، ہم نے کسی بھی فورم پر کلبھوشن کا نام نہیں لیا،کلبھوشن کامعاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھایاجاناچاہئے تھا، انہوں نے کہا کہ بھارت میں کل بھوشن سے متعلق روز بریفنگ ہورہی ہے،ہمیں تشویش ہے جو اقدامات ہونا چاہیے تھے وہ نہیں اٹھائے گئے ، ہم سے مشاورت کرلیں ہم بتادیں گے کیاکرناہے، ہم نے پوچھابھی تھاکہ کیا کسی کورکھاہے،کہاگیاہاں ہاں بتادیں گے ،ہم منتخب وزیراعظم پر کبھی تہمت نہیں لگاتے، جو منتخب ہوکرآیا وہ توجواب دے۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت نے حتمی فیصلہ نہیں دیا لیکن بھارت نے حکم امتناعی تو لے لیا ہے،ہم بھارت کیساتھ امن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے وقارکی قیمت پرنہیں ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو حساس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہتے، ملکی سلامتی پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں، فوری طور پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عَلم گرنے نہیں دیں گے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ فاٹا اصلاحات بل کے معاملے پر فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ کرلیا ، فاٹا کے منتخب ارکان آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے فاٹا بل پر تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ فاٹا اصلاحات بل کے معاملے پرایک طرف اپوزیشن ڈٹ گئی ہے تو دوسری طرف فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے بھی پیپلزپارٹی کی قیادت سے رابطہ کرلیا ہے ۔ فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی خواہش ظاہر کردی ۔ فاٹا ارکان پارلیمنٹ آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ۔ فاٹا کیارکان کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر فاٹا کے عوام کے تحفظات کو بھرپور طریقے سے اٹھائے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کے ساتھ فاٹا ارکان اسمبلی کی جلد ملاقات کرائی جا رہی ہے

Scroll To Top