کلبھوشن کیس عالمی عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے ،دفترخارجہ

  • بھارت کیساتھ تناو¿ نہیں چاہتے لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دےاجائیگا،نفیس زکریا

کلبھوشن یادیواسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے کہاہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے ، پاکستان بھارت کے ساتھ تناو¿ میں اضافہ نہیں چاہتا ، بھارت نے کوئی بھی مزاحمت کی تو پاکستان ماضی کی طرح اس کا بھرپور جواب دےگا ،اقوام متحدہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرائے ، جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا پاک افغان بارڈر کھول دینا خطرے سے خالی نہیں ہو گا ، مسئلے کے حل کےلئے پاک افغان حکام رابطے میں ہیں۔جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے رواں سال اعلامیہ آرٹیکل 36 کے تحت عالمی عدالت انصاف میں جمع کروایا اور ڈیکلئریشن کے مطابق پاکستان چند معاملات میں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتا۔کلبھوشن کا معاملہ بھی اسی کیٹیگری میں آتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ویانا کنونشن کے مطابق پاکستان چند معاملات پر عالمی عدالت کا دائرکار تسلیم نہیں کرتا اور اسی معاہدے کے مطابق کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار میں نہیں آتاانہوںنے کہاکہ کلبھوشن یادیو کئی بے گناہ پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب ہونے کے بعدبھارت کلبھوشن کے معاملے کو انسانی معاملہ بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی انتہاپسندتنظیم آر ایس ایس مقبوضہ کشمیر میں تنظیم سازی کر رہی ہے۔ آر ایس ایس 5 لاکھ کشمیریوں کو قتل کر چکی ہے ،اب مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کی کارروائیوں پر تشویش ہے۔نفیس زکریا نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے، کشمیری رہنماو¿ں کو نظر بند اور حراست میں لیا جارہا ہے، آسیہ اندرابی اور صوفیہ صوفی کو خرابی صحت کے باوجود جیل بھیج دیا گیا جبکہ سید علی گیلانی کو ڈاکٹرز سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی،انہوںنے کہاکہ انتہا پسندی تنظیم وادی کی جغرافیائی حیثیت بدلنے کی کوشش کررہی ہے جس کے خلاف پاکستانی مشیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے اور خط میں مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کے اجرا کو اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا اقوام متحدہ اس معاملے پر خود مداخلت کرے کیوں کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک کو کچلنے کی بھارتی کوششوں نے کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی توجہ مزید مبذول کرادی ہے اب اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرائے۔ترجمان نے کہاکہ بھارت تیزی سے اپنے ایٹمی پروگرام میں اضافہ کررہا ہے جو جنوبی ایشیا کے امن اور خصوصاً پاکستان کی سلامتی کےلئے خطرناک ہے۔ دوسری جانب بھارتی فوج ایل او سی اور ورکنگ باو¿نڈری کی خلاف ورزیاں کررہا ہے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا کام ہے کہ وہ ورکنگ باو¿نڈی اور ایل او سی کی نگرانی کرے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں علاقے کا سروے کرے، اس معاملے پر مبصرین پاکستان سے بھرپور تعاون بھی کررہے ہیں تاہم بھارت نے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کی نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان تناو¿ میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن اگر بھارت نے کوئی بھی مزاحمت کی تو پاکستان ماضی کی طرح اس کا بھرپور جواب دے گا۔ترجمان نے افغانستان سے متعلق کہا کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا پاک افغان بارڈر کھول دینا خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ پاک افغان مشترکہ سروے کے نتائج سے آگاہ نہیں ہوں، مسئلے کے حل کےلئے پاک افغان حکام رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج میں اضافہ افغان افواج کی صلاحیت بڑھانے کے لئے کیاہے۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات و سیاسی بات چیت سے ہی ممکن ہے انہوںنے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے ،افغان حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا جارہا ہے گزشتہ روز بھی افغانستان نے عالمی سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی جبکہ چند روز قبل بھی افغان فورسز کی جانب عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، پاک افغان سرحد چمن بارڈر کی بندش کی بنیادی وجہ بھی وہاں پر قیمتی جانوں کا ضیاع ہے جہاں بھی عوام کو خطرہ ہوگا وہاں حکومت اپنے شہریوں کو رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔

Scroll To Top