اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے پاکستان کو اب نئی صف بندی کرنی ہوگی ! 04-05-2011

kal-ki-baatآپس کی بات ہے کہ 2مئی 2011ءکی شب کو جناب نجم سیٹھی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ پر کچھ اس انداز میں خیال آرائی کررہے تھے جیسے وہ واقعی پنٹاگون ` وہائٹ ہاﺅس اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں سے کسی ایک کے باقاعدہ تنخواہ دار ترجمان ہوں۔ انہوں نے جس تیقن اور پرُ مسرت اعتماد کے ساتھ امریکی فوج کے آپریشن کا دفاع کیا او ر پاکستان اس کے عوام اور اس کی فوج کے متعلق جس ہمدردانہ لب ولہجے میں خیال آرائی کی اس سے واضح طور پر یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ ” ہماری حکومت “ کے سرپرستوں کے سیٹ اپ میں جن ذمہ داریوں پر فائز ہیں وہ جناب حسین حقانی کی ذمہ داریوں سے کسی بھی طور پر کم تر درجے کی نہیں۔
پاکستان کی خود مختاری اور آزادانہ حیثیت کے بارے میں جناب سیٹھی صاحب کا رویہ اس قدر تمسخرانہ ہوتا ہے کہ مجھ جیسے بے بس لوگ تلملا کر رہ جانے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے۔برصغیر کے مسلمانوں سمیت عالم اسلام نے مغربی نو آبادیاتی اور استعماری نظام کے سفاک جبر کی غلامی تقریباً دو ڈھائی صدیوں تک جھیلی ہے۔ میں یہاں بات صرف برصغیر کے مسلمانوں کے عہد ِغلامی کی کروں گا۔ بچپن میں مجھے اکثر یہ سوال ستایا کرتا تھا کہ چند ہزار فرنگیوں نے کروڑوں کی آبادی کے برصغیر کو اتنی کامیابی کے ساتھ اپنی غلامی میں کیسے لے لیا۔؟
” عمرِ شعور “ میں داخل ہونے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ جہاں مسلمانوں کی صفوں میں سراج الدولہ ` فتح علی ٹیپو اوربخت خان جیسے غیور حریت پرست پیدا ہوئے وہاں ہماری مٹی میں میر جعفر اور میر صادق جیسے ” موقع شناس“ ابن الوقتوں کو پیدا کرنے کی خاصیت بھی تھی۔
مجھے یقین ہے کہ فرنگی سیٹ اپ میں جناب نجم سیٹھی جیسا ” حقیقت شناس“ لب و لہجہ او ر اندازِ فکر رکھنے والے ” اصحاب دانش“ کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔
اسے تاریخ کا جبر کہیں یا گردشِ زمانہ کی ستم ظریفی کہ مفتوح اور محکوم قوموں کے حریت پسندوں کے پاس اپنی بے بسی پر خون کے آنسو بہانے کے علاوہ اگر کوئی آپشن ہوتا ہے تو وہی آپشن ہوتا ہے جو شیرِ میسور نے اختیار کیا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ اسامہ بن لادن کو شیرِ میسور جیسے شہدائے آزادی کی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ہنوز ہم پورے تیّقن کے ساتھ یہ نہیں جانتے کہ اسامہ بن لادن کی دیوانگی کے پیچھے صرف ” طوق غلامی “ اتار پھینکنے کا جذبہ تھا یا وہ جان بوجھ کر ایک ” دور رس“ امریکی ایجنڈے کا حصہ بنے اور نہ چاہتے ہوئے بھی استعمال ہوتے چلے گئے۔ مگر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر اسامہ بن لادن واقعی وہ سب کچھ تھا جو کچھ اس کے مغربی اور مغرب نواز ناقدین ثابت کرتے رہے ہیں تو اس مقصد کی عظمت سے انکار میرے لئے ممکن نہیں جس کے حصول کی خاطر اس ” غیر معمولی شخص “ نے عیش و عشرت کی زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس پر دنیا کی سب سے بڑی ہلاکت آفرین طاقت ہمیشہ اس کے تعاقب میں رہی۔ اگر پاکستان کا کوئی بھی شہری یا کوئی بھی فوجی اسامہ بن لادن کے اختیار کردہ راستے کی بناءپر موت کی آغوش میں گیا تو میںاسے اپنا مجرم سمجھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن اسے اپنا مجرم قرار دینے سے پہلے میں ” استعمار کی اس مشینری “ کو بھی اپنا مجرم قرار دوں گا جس نے گزشتہ صدی کے دوران کشمیر اور فلسطین پر ہلاکت آفرین سنگینوں کا پہرہ بٹھانے والی طاقتوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
اگر آزاد قوموں کی سرزمین پر قبضہ کرکے ان کے گلے میں طوقِ غلامی ڈالنا دہشت گردی نہیں تو طوقِ غلامی کو اتار پھینکنے کا عزم لے کر موت کی واد ی میں چھلانگ لگانے والے ” فرزندانِ مزاحمت“ کو ہم کس منہ سے دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ اگر ایک دہشت گرد کو مارنے کے لئے 200 معصوم شہری بھی ساتھ مار دیئے جاتے ہیں اور پھر اسے Collateral damageکا نام دے دیا جاتا ہے تو پھر اسی منطق کو ” دہشت گردوں “ کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے والے ”معصوم شہریوں“ کے معاملے میں بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ” انسانی خون “ کو ارزاں سمجھنے والی ہر سوچ ` ہر کارروائی اور ہر قوت قابل مذمت ہے۔ جتنی ہلاکتیں تاریخ اسامہ بن لادن کے کھاتے میں ڈالے گی اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں جارج بش کے کھاتے میں ڈالی جائیں گی۔
میں آخر میں امریکی فوج کے ایبٹ آباد آپریشن کی طرف آتا ہوں ۔ اس پر خیال آرائی آئندہ بھی ہوتی رہے گی مگر آج میں صرف یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ اس معاملے کا جائزہ لینے سے پہلے ہمارے ” محب وطن “ دانشور بروس ریڈل کی تازہ تصنیف Deadly Embraceضرور پڑھیں۔سی آئی اے اور پنٹاگون والے جب بھی کسی بڑی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو ان کے صرف نجم سیٹھی ہی نہیں بروس ریڈل بھی حرکت میں آجایا کرتے ہیں۔
بروس ریڈل نے پاکستان کے بارے میں لکھا ہے کہ ” یہ ایک ایسا ملک ہے جس نے القاعدہ اور طالبان کو پناہ دے رکھی ہے ` جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں او ر جو بہت جلد دنیا کی پانچویں بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن جائے گا۔ اس ملک کے بارے میںاب امریکہ کو نیا اندازِ فکراختیار کرنا ہوگا۔“
میری دعاہے کہ اس سے پہلے کہ امریکہ کا نیا ” اندازِ فکر “ کھل کر سامنے آئے ہم اپنی بقاءاور سلامتی کے لئے ایسی صف بندی ضرور کرلیں کہ دشمن کو اپنے مجرمانہ عزائم کی ناقابل تلافی قیمت ادا کرنی پڑے ۔
پاکستان زندہ باد !

Scroll To Top