مستقبل قریب میں بھی افغانستان امن سے محروم رہیگا

zaheer-babar-logo


افغانستان میں امن وامان کا قیام کابل حکومت کے لیے اب بھی بڑا چیلنج ہے ۔ آئے روز قتل وغارت گری پر مبنی واقعات دراصل اس حقیقت کا پتہ دے رہے کہ کابل حکومت بدستورحالات کنڑول کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ۔ دہشت گردی کا تازہ واقعہ افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں سرکاری ٹیلی وژن کی عمارت پردہشت گردوں کے حملے میں کی شکل میں سامنے آیا جس میں چھ افراد جاںبحق ہوئے جبکہ حکام کے مطابق اس کارروائی میں کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ کے چاروں حملہ آور بھی مارے گے ۔
حملے میں مارے جانے والے چار افراد کا تعلق سرکاری ٹیلی وژن چینل آر ٹی اے سے ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی اس لڑائی میں کام آئے ۔حکام کے مطابق چار حملہ آور سرکاری ٹیلی وژن کی عمارت کے اندر داخل ہوئے جن میں سے دو خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دو حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان تقریبا چار گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ادھر دولت اسلامیہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ افغان حکام کے مطابق ٹیلی وژن سٹیشن کے سربراہ سمیت کم از کم بارہ ملازمین کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا تاہم دیگر لوگ اندر ہی محصور ہو کے رہ گئے تھے۔
(ڈیک) افغانستان میں حالات اسی وقت بہتر ہوسکتے ہیںجب افغان حکومت کسی اور علاقائی اور عالمی طاقت کے کھیل میں مہرے کا کردار ادا کرنے کی بجائے اخلاص اور حکمت سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک طرف امریکہ اپنے علاقائی اور بین الاقوامی اہداف کے حصول کے لیے افغانستان کو مسلسل استعمال کررہا تو اب جنگ سے تباہ حال اس ملک میں بھارت کی کارستانیاں جاری ہیں۔(ڈیک) مزکورہ دونوں ملکوں کو اس سے ہرگز کوئی سروکار نہیںکہ کئی دہائیوں سے مسائل کی دلدل میں غوطہ زن اس ریاست کا مسقبل کیا ہوگا جہاں کی حکومت سے درالحکومت تک نہیں سنبھالا جارہا۔
نائن الیون کے بعد امریکہ کی افغانستان آمد بظاہر تو اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم کا خاتمہ تھا مگر اندرون خانہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت ریاست ہائے متحدہ کے لیے کئی دہائیوں سے تشویش کا باعث تھی ۔ امریکہ بجا طور پرسمجھتا ہے کہ چین نے جس تیزی سے ترقی کی ہے وہ اس کا بات کی نشاندہی کررہا کہ وہ وقت دور نہیں جب امریکہ کے لیے سپرپاور کا اعزاز کسی کام کا نہ رہے۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کے بعد امریکہ نے ایک طرف تو خوشی کے شادیانے بجائے تو دوسری جانب بدلے ہوئے عالمی منظر نامہ میں نئے دشمن تلاش کرنے میں ہرگز دیر نہ کی۔ کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے مگر حقیقت یہی ہے کہ اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست نے مسلم دنیا اور چین کو اپنے نشانہ پر رکھ لیا ۔ اسامہ بن لادن اور ان جیسی سوچ رکھنے والے دیگر حضرات کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور اس انداز میں پروموٹ کیا گیا جس کا نتیجہ درجنوں مسلمان دنیا کی تباہی کی شکل میںبرآمد ہوا۔ کوئی نہ بھولے کہ کوئی اور نہیں یہ امریکہ ہی تھا جس نے افغانستان اور روس کی جنگ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلم نوجوانوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا۔ مقدس جنگ کہہ کر انکل سام نے اپنے دیرینہ مقاصد تو حاصل کرلیے مگر اس کے نتیجے میں عالم اسلام میں انتہاپسندی کی شکل میں ایسا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا جس نے پہلے سے مشکلات کا شکار مسلم معاشرے کے لیے بے پناہ مسائل کھڑے کردیے۔
مسلم اہل فکر ونظر کو بجا طور پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اول وآخر نقصان اس کا ہی ہورہا۔ مرنے والے بھی کلمہ گو اور مارنے والے بھی خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔افسوس کہ مسلم سماج میں اہل مذہب کا کردار تسلی بخش نہیں۔ مسالک اور فرقوں میں بٹے مسلمان معاشرے عملی طور پر اتفاق واتحاد سے کئی منزل سے کہیں دور ہیں۔ کون انکار کریگا کہ سعودی عرب اور ایران کی شکل میںاسلامی دنیا میں تقسیم واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ دراصل مسلمانوں کو کسی اور دشمن کی ضرورت ہی نہیں جب ان میںباہم تفریق کی لکیر اس قدر گہری ہے۔
افغان حکومت کو دراصل اسی شدت پسندی کا سامنا ہے جس کے بیچ افغانستان روس جنگ کے دوران اپنوں اور غیروں نے بوئے۔ کئی دہائیوں جنوبی ایشیاءمیں بویا جانے والا انتہاپسندی کا بیچ اب طاقتور درخت بن گیا۔ ادھر افغان طالبان کسی بھی صورت میں امن عمل کا حصہ بنے کو تیار نہیں۔ وہ اس حقیقت کو عملا ًمسترد کررہے کہ تمام تر قتل وغارت گری کے ارتکاب کے باوجود دنیا انھیں افغانستان میں حکومت نہیں بنانے دے گی۔ سیاست میں کچھ لو اور کچھ دو کا فارمولہ ہی چلتا ہے مگر بادی النظر میں طالبان اس سچائی کے آگے سر تسلم خم کرنے کو تیار نہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کابل حکومت میں براجمان اہم شخصیات اس سچائی سے آگاہ ہیں کہ جاری جنگ کا خاتمہ مسقبل قریب میں ہوتا نظر نہیں آتا۔ اشرف غنی اور ان کے قریبی رفقاءدراصل حامد کرزئی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیںجس میں ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل کو اولیت دیتے ہوئے محض زبانی جمع خرچ جاری رکھا جائے ۔کابل حکومت اپنی تمام تر ناکامیوں کا زمہ دار پاکستان کو قرار دیتی ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ افغان طالبان ملک کے کئی صوبوں میںمکمل اور کہیںجزوی حکومت چلا رہے جو کابل کی ناکام پالیسی کا منہ بولتا ثبو ت ہے۔

Scroll To Top