فاتحین کے ہیرو ہمیشہ مفتوحین کے ولن اور مفتوحین کے ہیرو ہمیشہ فاتحین کے ولن ہوا کرتے ہیں 03-05-2011

kal-ki-baat


اسامہ بن لادن پہلی مرتبہ نہیںمارا گیا مگر اس مرتبہ اسے جس انداز میں مارا گیا ہے اس سے ایک بات” روزِروشن “ کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ ہم ا یک آزاد قوم نہیں ہیں اور ہماری ملکی خود مختاری کچھ ایسی غیر مرئی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے کہ ہماری غیور اور بہادر فوج بھی ان عوامل کو یقینی نہیں بنا سکتی جو ایک آزاد قوم کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔ ایک امریکی فوجی دستہ رات کے اندھیرے میں ہمارے ملک کی حدود کے اندر داخل ہوا اور ایبٹ آباد جیسے شہر کے نواح میں ایک ایسا آپریشن کامیابی کے ساتھ کرکے چلا گیا جس کے نتیجے میں کہاجارہا ہے کہ اسامہ بن لادن بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسامہ بن لادن کی موت واقع ہوئی ہے۔ مگر اس مرتبہ اسے بڑے منظم انداز میں اس اہتمام کے ساتھ مارا گیاہے کہ اس کی موت کی تصدیق خود امریکی صدر نے کی ہے اور ساتھ ہی یہ خبر دی گئی ہے کہ اسامہ کی لاش کو شریعت کے مطابق ” سپردِسمندر“ کردیا گیا ہے۔
یہ اندازِ تدفین شرعی ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے مگر لاش کو سمندر کے سپرد کرنے کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اسے اسامہ قرار دینا ہی اسے اسامہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ امریکیوں نے ” متوفی“ کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ” اسامہ “ ثابت کرنے کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی اور اس قسم کی چہ میگوئیوں کا دروازہ کھلا کیوں رکھا ہے کہ وہ حقیقی اسامہ ہی تھا یا ان متعدد ” اساماﺅں“ میں سے ایک تھا جن کی ہلاکت کی خبریں ہم ” تورا بورا“ سے سن رہے ہیں ` اس کے متعلق فوراً طور پر کوئی حتمی خیال آرائی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایک با ت البتہ بڑی واضح ہے اور وہ یہ کہ اس مرتبہ اسامہ کو اس اہتمام کے ساتھ مارا گیا ہے کہ اس کی پاکستان میں موجودگی کے متعلق جو پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے اسے درست ثابت کیا جاسکے اور ساتھ ہی ہم پر اس نوعیت کا دباﺅ بھی بڑھایا جاسکے کہ دنیا کے امن کو تہ و بالا کرنے کی صلاحیت اوراس کا ایجنڈا رکھنے والے ” دشمنانِ انسانیت “ چونکہ ہماری صفوں میں ہی” پناہ“ لئے ہوئے ہیں اس لئے انکے خاتمے کے لئے بھرپور کارروائیاں کرنا ہماری ہی ذمہ داری بنتی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اسامہ کی ” حالیہ “ ہلاکت کا اہتمام جان بوجھ کر ایسے ماحول میں کیا گیا ہے جس کے بارے میں یہ کہنا نادرست نہیں ہوگا کہ یہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کی کشیدگی کا بدترین ماحول ہے۔ مگر کچھ باتوں کا کہنا ضروری نہیں ہوتا۔ وہ خود ہی سب کچھ کہہ دیا کرتی ہیں۔
تاریخ ہمیشہ فاتحین لکھا کرتے ہیں۔
اور فاتحین ہمیشہ صرف وہی سچ لکھتے ہیں جو ان کی پسند کا ہو ۔ جن انگریز مورخین نے نیپولین یا ہٹلر کے بارے میں لکھا انہوں نے متذکرہ دونوں عظیم فاتحین کی صرف ” برائیوں“ پر روشنی ڈالی۔مغربی مورخین کبھی یہ سچ تاریخ کے صفحات پر نقش ہونے نہیں دیں گے کہ جارج بش نے کئی لاکھ بے گناہ عراقیوں اور افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ وہ اسے کبھی لاکھوں افراد کا قاتل قرار نہیں دیں گے۔ کیوں کہ انہیں صرف وہ دو ڈھائی ہزار مقتولین نظر آئیں گے جو نائن الیون کے واقعات کے نتیجے میں ہلاک ہوئے اور جن کی موت نے امریکی صدر کو دو آزاد قوموں پر آگ اور ہلاکت برسانے کا لائسنس دے دیا ۔
میں نہیں جانتا کہ اسامہ کب مرا۔ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس شخص کی موجودگی نے امریکہ اور اس کے حلیفوں کے ہاتھوں میں دنیا کے تقریباً ہر مسلم ملک کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا لائسنس تھما دیا۔
حقیقی اسامہ کو ن تھا اور کیا تھا ؟
اس اہم سوال کا جواب ہمیں شاید کبھی نہ ملے۔ کچھ لوگ اسے سچ مچ دہشت گردی کا شیطان صفت سرغنہ سمجھتے رہیں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو بڑی دیانت داری سے اسے ” سی آئی اے “ کا ایک ”کرشمہ “ قرار دیں گے۔ مگر لاکھوں کی تعداد میں ایسے بھی ہوں گے جن کی نظر وں میں وہ ایک ایسے” مردِ جانباز“ کے رو پ میں ابھرے گا جس نے اپنی ” سوچ “ کا پرچم بلند کرنے کے لئے محلات کی پرُتعیش زندگی پر غاروںکے پتھریلے بستر کو ترجیح دی۔
جب میں اس اسامہ کی ” سوچ “ کے بارے میں سوچتا ہوں تو ان ہزاروں لاکھوں ہلاکتوں پر شدید غم و غصہ رکھنے کے باوجود جو اس کی بدولت ہمارے حصے میں لکھی گئیں ` میں سلطان جلال الدین خوارزم ؒ اور سلطان فتح علی ٹیپوؒ کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا۔
تیرہویں صدی کا آغاز ہماری تاریخ کا بدترین دور تھا۔ منگول آندھی نے اسی دور میں عالم اسلام کو کھوپڑیوں کے میناروں میں تبدیل کیا۔ چنگیزی فوج قہرِ الٰہی بن کر وسطی ایشیا کی مسلم آبادی پر ٹوٹی۔ ایسے میں سلطان علاﺅ الدین خوارزم کا بیٹا جلال الدین خوارزم تاتاری لشکر کی قہاری کے خلاف مجاہدانہ مزاحمت کی علامت بن گیا۔ مجھے امریکہ اور چنگیز خان میں بڑی مماثلت نظر آتی ہے۔ ایسی ہی مماثلت مجھے جلا ل الدین خوارزم اور اسامہ کے درمیان بھی نظر آتی ہے۔
چنگیز خان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ جلال الدین خوارزم کو زندہ پکڑے۔ مگر اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ چارلس لیمب نے چنگیز خان کے ساتھ یہ الفاظ منسوب کئے ہیں۔ ” آفرین ہے اس ماں پر جس نے ایسا بیٹا پیدا کیا !“
انگریز ٹیپو شہید کو بھی نہیں بھولے ہوں گے۔
یہ بات میکالے نے تسلیم کی تھی کہ انگریز مائیں ایک عرصے تک اپنے بچوں کو ٹیپو کا نام لے کر ڈرایا کرتی تھیں۔
فاتحین کے ہیرو ہمیشہ مفتوحین کے ولن اور مفتوحین کے ہیرو ہمیشہ فاتحین کے ولن ہوا کرتے ہیں۔

Scroll To Top