فوج پر حملے کہاں سے ہوتے رہے ہیں ؟

aaj-ki-baat-new-21-april


گزشتہ دنوں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس بات پر شدید ردعمل اور غصے کا اظہار کیا ہے کہ کچھ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ایسے عناصر کی سرکوبی کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔چوہدری صاحب اس قدر بے خبر نہیں ہوسکتے کہ انہیں ان عناصر کے بارے میں آگہی نہ ہو جو عرصہ ءدراز سے فوجی قیادت کی کردار کشی اور فوج کی تضحیک کررہے ہیں۔ چوہدری صاحب کی شہرت برسہا برس سے یہ رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن)میں وہ واحد لیڈر ہیں جن کے فوج سے قریبی رابطے رہتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال تو یہ بھی ہے کہ میاں شہبازشریف فوج کے قریب جانے کے لئے چوہدری صاحب کا ہی سہارا لیتے ہیں۔
بہرحال چوہدری صاحب کی تشویش بھی درست ہے اور غصہ بھی جائز ہے۔ مگر وہ اپنی ہی جماعت کی سرکوبی کیسے کریں گے۔ ان کی جماعت ایسے عناصر سے بھری پڑی ہے جو میاں صاحب کی خوشنودی کے لئے فوج کو تضحیک و تمسخر کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ نون لیگ میں کوئی ایک مشاہد اللہ نہیں نہ ہی کوئی ایک رانا ثناءاللہ ہے۔ کوئی ایک رانا افضل نہیں اور نہ ہی کوئی ایک خواجہ سعد رفیق ہے۔ اور یہ بات کون نہیں جانتا کہ محترمہ مریم نوازشریف کی رہنمائی میں مسلم لیگ (ن)کا جو میڈیا سیل کا م کرتا رہا ہے اس کے نشتروں کے دو پسندیدہ اہداف عمران خان اور فوجی قیادت رہے ہیں ؟
چوہدری صاحب اگر فوج کے حامیوں اور نون لیگ کے مخالفوں کو ٹارگٹ کررہے ہیں تو اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
کون نہیں جانتا کہ فوج کے جتنے بھی دشمن ہیں انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس ضمن میں میں نجم سیٹھی اور عاصمہ جہانگیر اینڈ کمپنی کے علاوہ اس میڈیا گروپ کا نام بطور خاص لوں گا جس کی سوچ یہ ہے کہ ’ ’پاک آرمی “ اور ” پائیدار امن “ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اِن ہی عناصر نے مودی اور میاں صاحب کے درمیان قربتیں بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔۔۔

Scroll To Top