خلیوں کو سننے والی نینوفائبر سے بنی ننھی اسٹیتھواسکوپ

cیہ اہم ایجاد خلیاتی اور مالیکیولر سطح پر ہونے والی تبدیلیاں نوٹ کرسکتی ہے اور اس سے طبی انقلاب آسکتا ہے، ماہرین، فوٹو۔ بشکریہ ریٹ ملر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا

سان ڈیاگو: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے سائنسدانوں نے ایک نینو جسامت کی آپٹیکل فائبر بنائی  ہے جو اتنی حساس ہے کہ جسمانی خلیات (سیلز) کی قوت اور سرگرمی کو محسوس کرسکتی ہے۔

اس آلے کو ایک بہت چھوٹی اسٹیتھوسکوپ کہا جاسکتا ہے جو صرف چند سو نینومیٹر چوڑی اور ایک انسانی بال کے 100 ویں حصے کے برابر ہے۔ کسی اسٹیتھواسکوپ کی طرح یہ انفرادی خلیات کو محسوس کرسکتی ہے اور ان کی خصوصیات ناپ سکتی ہے۔

یہ نینو فائبر حساس ترین اٹامک فورس مائیکرواسکوپ سے بھی 10 گنا حساس اور مؤثر ہے۔ جب ماہرین نے اس ایجاد کو آنتوں سے نکالے گئے بیکٹیریا پر آزمایا تو اس نے ایک نیوٹن قوت کے ایک ہزار ارب ویں حصے کے برابر قوت کو محسوس کرلیا۔ اس کے علاوہ منفی 30 ڈیسی بیل تک کی آواز کو محسوس کرلیا جو ایک کارنامہ ہے۔

اس تحقیق سے سائنس کے در کھلیں گے اور ماہرین ایٹمی اور مالیکیولر سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور ری ایکشن کو نوٹ کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اس سے خلیات کی میکانکی حرکات، کینسر کے پھیلاؤ یا پھر وائرس کے حملوں کو بھی بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

یونیورسٹی میں نینو انجینئرنگ کے پروفیسر کے مطابق یہ ایجاد بہت معمولی تبدیلیوں کو نوٹ کرکے کسی بڑے واقعے سے قبل از وقت مطلع کرسکتی ہے خواہ وہ کسی عضو کی خرابی ہو یا پھر ابتدائی درجے کی منفی تبدیلیاں ہوں۔ اسے ٹن ڈائی آکسائیڈ کے ایک انتہائی باریک ریشے سے بنایا گیا ہے۔ پھر اس پر پولی ایتھلین گلائیکول کی باریک پرت چڑھائی گئی جو ایک طرح کا پولیمر ہے اور اس کے بعد اس پر سونے نے نینوذرات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔

Scroll To Top