اورنج لائن ٹرین منصوبے میں کرپشن کیس کی سماعت

اورنج لائن ٹرین منصوبےلاہور( آن لائن) ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق اعظم سوہل نے اورنج لائن ٹرین منصوبے میں کرپشن کے الزام میں گرفتار نیسپاک کے جنرل منیجر سہیل مجید اور جونیئر انجینئر واصیل افتخار کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی، اینٹی کرپشن حکام نے دونوں افسران کو عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ ملزموں نے اورنج لائن ٹرین منصوبے میں 2 کروڑ 62 لاکھ روپے کی کرپشن کی اور منصوبے کے لئے 16 میٹرز کی بجائے 11 میٹرز کے پلرز تعمیر کروائے، ملزموں سے تفتیش کرنی ہے لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے جبکہ ملزموں کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ سہیل مجید کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں اور اس نے منصوبے میں ہونے والی کرپشن کا انکشاف کیا لہٰذا اس کی گرفتاری بلا جواز ہے

جبکہ ملزم واصیل افتخار کے وکیل نے کہا کہ وہ ڈیلی ویجز ملازم تھا اور اس کا کرپشن سکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ان کا مزید جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے تاہم عدالت نے دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کر دیا۔

Scroll To Top