فاروق ایچ نائیک کی 21کروڑ67 لاکھ فیس

zaheer-babar-logoبعض حلقوں کے مطابق پی پی پی کی صوبائی حکومت مال مفت دل بے رحم کی عملی شکل تصویر بن گی ہے ۔ اس کی تازہ مثال یوں کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کے ماتحت صوبائی وزارت قانون میں وکلاءکی بڑی ٹیم ہونے کے باوجود گذشتہ چار برسوں میں 35مختلف مقدمات کی پیروی کے لیے نو وکلاءکی” خدمات “ حاصل کی گئیں جنھیں قومی خزانے سے 23 کروڈ 12 لاکھ روپے ادا کیے گے۔ سندھ اسمبلی میں توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر قانون ضیاءالحسن لجنر نے بتایا کہ سابق وفاقی وزیر قانون اور چیرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک کو 2013 اور 2016کے درمیان صوبائی حکومت کے 25مقدمات کی پیروی کے عوض21کروڑ 67 لاکھ ادا کیے گے“۔
متحرمہ بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت کے بعد سابق صدر آصف علی زردای کی قیادت میں سامنے آنی والی پی پی پی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے گذشتہ پانچ سال بھی اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرگے کہ پارٹی کی موجودہ لیڈر شپ کو ہرگز کوئی پرواہ نہیںکہ عام پاکستانی بالعموم اور پی پی پی جیالا بالخصوص اس کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ دراصل زوالفقار علی بھٹو نے جیل کی کوٹھری میں اپنی آخری کتاب” if i am assassinated“ میں اپنے طرزسیاست کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ کھل کر بیان کیا کہ انھوں نے اپنے سرکاری عہدے کوکسی طور پر مال بنانے کے لیے استمال نہ کیا۔ زوالفقارعلی بھٹو کا دامن مالی بدعنوانی کے کسی بھی بڑے چھوٹے داغ سے یکسر پاک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مرحوم ضیاءالحق نے ان کے خلاف قتل اور اقدام قتل جیسے مقدمات تو بنوائے مگر کرپشن کا کوئی ایک مقدمہ بھی پی پی پی کے بانی کے خلاف نہ بنا۔ افسوس کہ بھٹو کہ اس درخشاں روایت کو ان کی سیاسی جانشین بیٹی بے نظیر بھٹو بھی برقرار نہ رکھ سکی۔ تاریخ گواہ ہے کہ دونوں بار جب بھی بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومتوں کو برطرف کیا گیا تو ان پر میگا کرپشن کے الزمات عائد کیے گے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ متحرمہ کی زندگی میں بھی ان کے شوہر آصف علی زرداری مسڑ ٹین پرسنٹ کے نام سے ملک کے اندار اور باہر معروف تھے۔ درست کہ کئی سال جیل میں گزرنے اور درجنوں مقدمات قائم ہوکر بھی سابق صدر زرداری کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہیں کیا جاسکا مگر نظام عدل میں موجود خرابیوں سے آگاہ ہر شخص یہ کہنے پرمجبور ہے کہ یہاں کسی بااثر شخص کو قانون کی گرفت میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوچکا۔ 2008 سے 2013 تک پی پی پی کے دور حکومت میں کئی کرپشن سیکنڈل منظر عام پر آئے، عدالتوں میں مقدمات بھی قائم ہوئے مگر پھر فلک نے دیکھا کہ سب ہی قانونی کاروائیاں دھری دھری کی رہ گئیں اور ملزم بنے والی اہم شخصیات بے گناہ ٹھریں۔ حیرت ہے کہ ہمارے بڑوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ عام آدمی کا نظام پر سے اعتماد اٹھ جانا کس قدر ہولناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ناکامیوں کی تمام تر زمہ داری نظام عدل کو قرار دینا قرین انصاف نہیں ہوگا۔ ہم سب باخوبی جانتے ہیں کہ سستا اور فوری انصاف کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب ریاست کے سب ہی ادارے قانون کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اگر ہر طاقتور طبقہ اپنے سے منسلک لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے میں رکاوٹ بنے گا تو پھر خرابی کی زمہ داری کسی ایک ادارے پر عائد کرنا انصاف نہیں۔
درپیش صورت حال میں بہتری کا ایک پہلو یہ ہے کہ عوام سے ہر بات چھپانا ممکن نہیںرہا۔ پرنٹ و الیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استمال عام آدمی کو بتارہا کہ اس کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ اور مراعات لینے والے کس حد تک اپنے فرائض منصبی سے انصاف کررہے ہیں۔(ڈیک) 2013کے عام انتخابات میں پی پی پی کی پنجاب ، خبیر پختوانخواہ اور بلوچستان میںشکست کی وجہ بھی یہی بنی کہ عوام نے پارٹی قیادت کا طرزسیاست سختی سے مسترد کردیا۔ بظاہر یہ ممکن نہیں رہا کہ محض شہادتوں اور جلاوطنی کی دہائی دے کر عوام سے ووٹ لینے کی روایت برقرار رہے(ڈیک)۔ اگر مگر کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی تاحال اپنی ناکامیوں سے سیکھنے میں ناکام رہی ہے۔ کم یا زیادہ کے فرق کے ساتھ پارٹی قیادت کا طرزعمل کم وبیش وہی ہے جو دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے وقت تھا۔ سیاسی مبصرین کی فکر مندی غلط نہیں کہ وفاق کی نمائندہ اہم سیاسی قوت تیزی سے انحاط پذیر ہے ۔محض اندرون سندھ تک محدود ہوجانے والی جماعت کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ۔ سابق وفاقی وزیر قانون اور چیرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک کو صوبائی حکومت کا محض تین سالوں میں فیس کی شکل میں 21کروڈ 67 لاکھ ادا کرنا بتا رہا کہ صوبائی حکومت کے کرتا دھرتاافراد کو کسی قسم کی جوابدہی کا خوف نہیں۔اس سوال کا جواب بھی حوصلہ افزاءنہیں کہ قومی میڈیا میں اس خبرکے سامنے آنے کے بعد کیا مسقبل قریب میں بہتری کی کوئی صورت رونما ہوگی۔جمہوریت پسند حلقوںکا پی پی پی کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں سے یہ مطالبہ غلط نہیں کہ وہ قیادت کی خفا ہونے سے ڈر سے قطع نظر حق وسچ کی آواز بلند کرنے میں اپنا وہ کردار ادا کریں جو انھیں تاریخ میں زندہ رہنے میں معاون کہلائے۔ {{

Scroll To Top