صوبائی تشخص دو قومی نظریے سے متصادم ہے 01-05-2011

kal-ki-baat


تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ یہ بات ایک ضرب المثل کی حیثیت حاصل کرچکی ہے۔
اور یہاں میں یہ بات دہرانے کی ضرورت اس شور وغوغا کی وجہ سے محسوس کررہا ہوں جو سرائیکی صوبے کے قیام کے سلسلے میں بلندہورہا ہے۔ بظاہر سرائیکی صوبے کے قیام کی حمایت میں بلندہونے والی آوازوں کے پیچھے وہاں کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے اور انہیں ” قعر پسماندگی“ سے نکالنے کاجذبہ کار فرما دکھائی دیتا ہے ۔ مگر اس مطالبے کا اصل محرک وہاں کے ” اُمرائ“ کا یہ ادراک ہے کہ انہیں سیاسی طور پر زیادہ مقتدر حیثیت حاصل کرنے کا موقع ”منقسم“ پنجاب میں زیادہ تیقن کے ساتھ ملے گا۔ اپنے سیاسی فائدے اوراپنے انتخابی حلقوں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے یہ ” اُمرائ“ پاکستانی قومیت کے مستقبل کو داﺅ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کررہے۔ تاریخ کا سبق یہاں یہ ہے کہ ایک ملک میں دو قومیتیں کسی بھی صورت میں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ جلد یا بدیر سیاسی مصلحتوں کا عفریت دونوں قومیتوں کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ` اور یہ تصادم ملکی سا لمیت اور قومی وحدت کے لئے زہر قاتل بن سکتا ہے۔
پاکستان کے فاﺅنڈنگ فادرز نے جس ” دو قومی “ نظریے پر تحریکِ پاکستان چلائی تھی اس میں کوئی بھی ابہام موجود نہ تھا۔ ہر صاحبِ علم اور صاحبِ شعور شخص کے علم میں یہ بات تھی کہ ” بر صغیر ہند“ متعدد مذاہب متعدد زبانوں اور متعدد نسلوں کا ملک ہے۔ پھرقوموں کی تعداد صرف ” دو“ تک محدود کرنے کے پیچھے کون سی منطق کار فرما تھی ؟ ” دو قومی نظریے “ کا فکری محور کیا تھا ؟ اگر دو قومی نظریے کے پیچھے ” اسلام “ اور ” غیر اسلام “ کا فرق واضح کرنا اور اس فرق کو ” قومی شناخت “ اور ” ملکی پہچان “ کی بنیاد بنانا نہیں تھا تو پھر تاریخ کی اس سب سے ” خونی تقسیم “ میں ”2“کے ہندسے نے کلیدی کردار کیوں ادا کیا ؟
میں یہاں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ” دو قومی نظریہ“ علامہ اقبال ؒ یا محمدعلی جناح ؒ نے ایجاد نہیں کیا تھا۔ اس کی بنیادیں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد نے اسی رات رکھ دی تھیں جس رات وہ ” مدینہ “ میں دنیا کی پہلی اسلامی ریاست قائم کرنے کا عزم لئے اپنے گھر اور اپنی علاقائی پہچان کو پیچھے چھوڑ کر مکہ سے نکلے تھے۔
جب پاکستان کے فاﺅنڈنگ فادرز نے ” دو قومی نظریہ “ کا پرچم بلندکرتے ہوئے قیام ِپاکستان کا سفر شروع کیا تھا تو ان کے سامنے یقینی طور پر اسلامی ریاست کا ہی تصور تھا۔ وہ ” اسلام “ اور ” غیر اسلام “ کے فرق کو جغرافیائی طور پر ایک تاریخی صداقت بنانے کا ہی ” وژن“ رکھتے تھے۔
میں یہاں مسلم ریاست اور اسلامی ریاست کے فرق کو واضح کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک مسلم ریاست ضرور ہے کہ یہاں کی بڑی غالب آبادی مسلمان ہے۔ مگر یہاں غیر مسلم بھی بستے ہیں۔ اور غیر مسلموں کے حقوق کی ضمانت ایک مسلم ریاست نہیں ایک اسلامی ریاست ہی دے سکتی ہے۔ صرف ” اسلام “ ہی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ 11اگست 1947ءکو قائداعظم ؒ نے جو تقریر کی تھی اور جسے ” سیکولرزم“ کے شیدائیوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص سے انحراف قرار دے کر ” دو قومی نظریے “ کو تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینکنے کی کوشش کی تھی ` وہ تقریر درحقیقت پاکستان کے اسلامی تشخص کا بڑا ہی بھرپور اثبات تھی اور اس کا مقصد دنیا پر یہ واضح کرنا تھا کہ ایک اسلامی ریاست ہونے کی بناءپر شہری حقوق کے معاملے میں پاکستان کی سرزمین پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مملکت ِخدادادپاکستان ایک ” وفاق “ ہے اور یہ وفاق چار یا پانچ ایسے صوبوں پر مشتمل ہے جن کی شناخت لسانی اور نسلی بنیادوں پر ہوتی رہی ہے۔
مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی پاکستانی قومیت کے تصور کو استحکام اور دوام بخشنے کے لئے صوبوں کی لسانی اور نسلی شناخت کو وفاقی شناخت میں ” ضم“ کرنے کا سفر شروع ہو جاناچاہئے تھا۔
اس ناگزیر ضرورت کی تکمیل صرف اس صورت میں ہوسکتی تھی کہ پاکستان کو لسانی اور نسلی شناخت کی بنیاد پر قائم صوبوں کا وفاق بنائے رکھنے کی بجائے مقامی حکومت کے تصور کو سامنے رکھ کر اسے متعدد انتظامی یونٹوں کا وفاق بناتے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر 1950ءکی دہائی میں پاکستان 20انتظامی یونٹوں میں تقسیم ہو کر 20خود مختار حکومتوں کا وفاق بن جاتا تو پاکستان کبھی دو لخت نہ ہوتا۔
بدقسمتی سے زور ” مقامی حکمرانی “ پر دینے کی بجائے ¾ لسانی اور نسلی شناختوں پر دیا گیا جس کا نتیجہ سقوط ِڈھاکہ کی صورت میں سامنے آیا۔
یہ موضوع آج کی بحث میں اس بات پر زور دینے کے لئے منتخب کیا ہے کہ میری رائے میں سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے لسانی اور نسلی شناخت کے جس عفریت نے سرا بھارا ہے وہ آنے والے ادوار میں دو قومی نظریے کی کوکھ سے وجودمیں آنے والی پاکستانی قومیت کے تصور سے ضرور ٹکرائے گا۔
پاکستان کو زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹوں کے وفاق میں ضرور تبدیل ہوناچاہئے مگر اس کے لئے ہمارے سامنے ” رول ماڈل “ ” آنجہانی یوگوسلاویہ “ نہیں ” ریاست ہائے متحدہ امریکہ “ ہو تو وہ مسائل زیادہ موثر انداز میں حل ہوں گے جن کے تانے بانے ” احساسِ محرومیت “ سے ملتے اور ملائے جاتے ہیں۔
اگر لسانی اور نسلی شناختوں کو جغرافیائی حدود فراہم کرنے کا رحجان زور پکڑتا گیاتو اس بات کو خارج از امکان نہ سمجھا جائے کہ پاکستان اسی راستے پر چل نکلے گا جس راستے پر یوگوسلاویہ کو دھکیلا گیا تھا۔
وقت آگیا ہے کہ وفاقِ پاکستان کے خلاف جاری عالمی سازشوں کے پیش نظر ہم 1973ءکے آئین کو صحیفہ ءآسمانی سمجھنے والی سوچ پر نظرِ ثانی کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ 1973ءکا آئین براہ راست اس دو قومی نظریے سے متصادم ہے جس کی کوکھ سے پاکستان نے جنم لیا تھا۔ ہم اس سوچ کو اپنا مقدر بنانے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ 1973ءکا آئین چونکہ متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور چونکہ آئندہ کسی آئین پر اتفاق کا حصول تقریباً ناممکن ہوگا اس لئے ہمیں ایسے کسی راستے کی تلاش شروع نہیںکرنی چاہئے جو ہمیں اس آئین میں مضمر خطرات سے نجات کی منزل کی طرف لے جائے۔
اس آئین میں سب سے بڑاخطرہ یہ پوشیدہ ہے کہ یہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر قائم صوبائی شناخت اور صوبائی خود مختاری کے تصورکو خطرناک سمت میں لے جاسکتا ہے۔ ایک ایسی سمت جو آنے والے ادوار میں پاکستان کو ایک ایسے مقام پر کھڑا دیکھ سکتی ہے جہاں کوئی بھی صوبہ یہ کہہ رہا ہو کہ ہماری اپنی تاریخ ہے اپنی شناخت ہے ` اپنے وسائل ہیں ` اس لئے ہمارا آئین اور ہمارا پرچم بھی ہمارا اپنا ہوناچاہئے۔
اگر صوبوں میں اضافہ ناگزیر ہو ہی گیا ہے تو پھر کیوں نہ پنجاب کو تین کی بجائے پانچ صوبوں میں تقسیم کیا جائے ` مگر ساتھ ہی ساتھ باقی صوبوں کو بھی تین تین صوبوں میں تقسیم کردیا جائے ؟
یوں پاکستان پندرہ یا سولہ صوبوں کا وفاق بن کر پاکستانی قومیت کا ناقابل تسخیر قیلہ بن جائے گا۔
اس کے لئے 1973ءکے آئین پر نظرثانی ضروری ہوگی ۔ سولہ خود مختار صوبے پاکستان کی سا لمیت کے ضامن تو بن ہی جائیں گے۔ لیکن ناگزیر ضرورت اب اس بات کی بھی ہے کہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب امراءشاہی کے نظام کے تحت ہونے والے جوڑ توڑ کی بجائے ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کی منشا کے براہ راست اظہار کے ذریعے ہو۔
پاکستان کو درحقیقت صلاح الدین ایوبی ؒکی ضرورت ہے۔ اور صلاح الدین ایوبی کا ظہور ایسے نظام میں ممکن نہیں جس میں ملک کی سیاسی باگ ڈور چند خوفناک مافیاﺅں کے ہاتھوں میں ہو۔۔۔

Scroll To Top