جو مسلمان اسلامسٹ نہیں وہ منافق کہلاسکتا ہے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-april


میں سمجھتا ہوں کہ غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ جس آدمی کی کوئی سوچ نہیں ' جس کا کوئی مقصد حیات نہیں ' کوئی ایسا نظریہ نہیں جس کے اردگرد اس کی زندگی گھومتی ہو ' وہ آدمی ایک چلتا پھرتا روبوٹ ہوگا۔ میری رائے میں تو دولت کمانے کی دیوانہ وار خواہش بھی ایک سوچ اور نظریہ ہے۔ آپ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری جیسے لوگوں سے پوچھ کر دیکھیں وہ کوئی دوسری سوچ یا دوسرا نظریہ رکھنے والوں کو بے وقوف کہیں گے۔ اور اگر دیکھا جائے تو منافقت بھی ایک سوچ اور ایک نظریہ ہے جس کے حامل لوگ داڑھی رکھ لیں تو مولانا فضل الرحمان کہلاتے ہیں اور سرخ ٹوپی پہن لیں تو اسفند یار ولی خان بن جاتے ہیں۔
میں نے کبھی اپنے آپ کو غیر جانبدار نہیں سمجھا۔ میری ایک واضح سوچ رہی ہے۔ میں ایک مسلمان ہونے کے سبب ایک پکا اسلامسٹ ہوں۔ یہ بات میں نے زندگی کے اوائل میں ہی سمجھ لی تھی کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جو اسلامسٹ نہ ہو۔ ” مسلمانی “ تو ہمیں زیادہ تر ورثے میں ملتی ہے۔ ہم پیدا ہی مسلمان ہوتے ہیں۔ اگر اپنی مسلمانی ثابت کرنے کے لئے ہم اسلام کو ایک نظام کے طور پر اختیار کرلیں اور اسلام کے پیغام کو صدقِ دل سے اپنے وجود میں اتارلیں تو ہم اسلامسٹ کہلائیں گے۔
میں تب بھی اپنے آپ کو اسلامسٹ سمجھتا تھا جب میری عقیدتیں ذوالفقار علی بھٹو کے لئے تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے دور بھی میں اس لئے گیا کہ میں اسلامسٹ ہوں۔
میری رائے میں صرف اسلام حق ہے ' باقی سب کچھ باطل ہے۔ اسے آپ میری انتہا پسندی سمجھ لیں لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا حکم یہ کیوں ہوتا کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاﺅ۔
یہاں میں اعتراف کروںگا کہ مکر و فریب جھوٹ اور ریاکاری کے جس نظام میں ہم سب زندگی بسر کررہے ہیں اس میں پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا مجھ سے زیادہ خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہوتا ہوگا۔
میں ایک گنہگار اسلامسٹ ہوں ۔ مگر میرا ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمانی اور کریمی پر ہے۔
میں نے یہ سب باتیں اس لئے لکھی ہیں کہ آپ کو بتاﺅں کہ عمران خان کے ساتھ میرا رشتہ کیا ہے۔ ہم دونوں اسلامسٹ ہیں۔ اور ایک دوسرے کو پسند بھی اسی رشتے سے کرتے ہیں۔
تین برس قبل عمران خان نے میرے سپرد یہ کام کیا تھا کہ میں تحریک انصاف کا نظریاتی وِنگ آرگنائز کروں۔
میں نے اس بارے میں ' بہت سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جس نظریاتی وِنگ کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ تحریک انصاف کے انتظامی ڈھانچے میںرہ کر آرگنائز نہیں کیا جاسکتا۔
اورجب میں اس نتیجے پر پہنچ گیا تو میں نے ون نیشن موومنٹ یا ایک قوم تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ وضاحت میں نے اپنے گزشتہ روز کے کالم کی روشنی میں ضروری سمجھی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ جس آدمی کی کوئی سوچ نہیں ' جس کا کوئی مقصد حیات نہیں ' کوئی ایسا نظریہ نہیں جس کے اردگرد اس کی زندگی گھومتی ہو ' وہ آدمی ایک چلتا پھرتا روبوٹ ہوگا۔ میری رائے میں تو دولت کمانے کی دیوانہ وار خواہش بھی ایک سوچ اور نظریہ ہے۔ آپ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری جیسے لوگوں سے پوچھ کر دیکھیں وہ کوئی دوسری سوچ یا دوسرا نظریہ رکھنے والوں کو بے وقوف کہیں گے۔ اور اگر دیکھا جائے تو منافقت بھی ایک سوچ اور ایک نظریہ ہے جس کے حامل لوگ داڑھی رکھ لیں تو مولانا فضل الرحمان کہلاتے ہیں اور سرخ ٹوپی پہن لیں تو اسفند یار ولی خان بن جاتے ہیں۔
میں نے کبھی اپنے آپ کو غیر جانبدار نہیں سمجھا۔ میری ایک واضح سوچ رہی ہے۔ میں ایک مسلمان ہونے کے سبب ایک پکا اسلامسٹ ہوں۔ یہ بات میں نے زندگی کے اوائل میں ہی سمجھ لی تھی کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جو اسلامسٹ نہ ہو۔ ” مسلمانی “ تو ہمیں زیادہ تر ورثے میں ملتی ہے۔ ہم پیدا ہی مسلمان ہوتے ہیں۔ اگر اپنی مسلمانی ثابت کرنے کے لئے ہم اسلام کو ایک نظام کے طور پر اختیار کرلیں اور اسلام کے پیغام کو صدقِ دل سے اپنے وجود میں اتارلیں تو ہم اسلامسٹ کہلائیں گے۔
میں تب بھی اپنے آپ کو اسلامسٹ سمجھتا تھا جب میری عقیدتیں ذوالفقار علی بھٹو کے لئے تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے دور بھی میں اس لئے گیا کہ میں اسلامسٹ ہوں۔
میری رائے میں صرف اسلام حق ہے ' باقی سب کچھ باطل ہے۔ اسے آپ میری انتہا پسندی سمجھ لیں لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا حکم یہ کیوں ہوتا کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاﺅ۔
یہاں میں اعتراف کروںگا کہ مکر و فریب جھوٹ اور ریاکاری کے جس نظام میں ہم سب زندگی بسر کررہے ہیں اس میں پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا مجھ سے زیادہ خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہوتا ہوگا۔
میں ایک گنہگار اسلامسٹ ہوں ۔ مگر میرا ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمانی اور کریمی پر ہے۔
میں نے یہ سب باتیں اس لئے لکھی ہیں کہ آپ کو بتاﺅں کہ عمران خان کے ساتھ میرا رشتہ کیا ہے۔ ہم دونوں اسلامسٹ ہیں۔ اور ایک دوسرے کو پسند بھی اسی رشتے سے کرتے ہیں۔
تین برس قبل عمران خان نے میرے سپرد یہ کام کیا تھا کہ میں تحریک انصاف کا نظریاتی وِنگ آرگنائز کروں۔
میں نے اس بارے میں ' بہت سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جس نظریاتی وِنگ کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ تحریک انصاف کے انتظامی ڈھانچے میںرہ کر آرگنائز نہیں کیا جاسکتا۔
اورجب میں اس نتیجے پر پہنچ گیا تو میں نے ون نیشن موومنٹ یا ایک قوم تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ وضاحت میں نے اپنے گزشتہ روز کے کالم کی روشنی میں ضروری سمجھی ہے۔

Scroll To Top