ٹرمپ نے روس کو انتہائی خفیہ معلومات دے دیں، امریکی اخبار کا دعویٰ

ros-and-ameciaامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ خصوصی تعلقات کی بناء پر پہلے ہی شدید اعتراضات اور الزامات کی زد پر ہیں۔ (فوٹو: فائل)


واشنگٹن ڈی سی: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کے دوران روسی وزیرِ خارجہ اور روسی سفیر کو داعش کے بارے میں انتہائی خفیہ اور حساس ترین معلومات فراہم کیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں سابق اور حاضر سروس امریکی اہلکاروں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ یہ معلومات ایک ایسے اتحادی کی جانب سے آئی تھیں جو داعش کے اندرونی معاملات سے باخبر ہے اور اس بارے میں انٹیلی جنس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات امریکی حکام کو فراہم کرتا رہتا ہے مگر یہ معلومات صرف اہم ترین امریکی حکام کےلیے ہوتی ہیں جنہیں کسی بھی غیر متعلقہ فرد، ادارے یا کسی دوسرے ملک تک پہنچایا نہیں جاسکتا۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جبکہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ملاقات کے دوران وہ بھی وہاں موجود تھے اور اس موقعے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی حکام کے ساتھ کسی قسم کی خفیہ معلومات کا تبادلہ نہیں کیا۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کا اصرار ہے کہ اس نے یہ خبر باوثوق ذرائع سے حاصل کی ہے اور روس کو اس طرح سے خفیہ اور حساس معلومات کی فراہمی سے مستقبل میں داعش کی جاسوسی کا عمل شدید طور پر متاثر ہوگا کیونکہ اس معاملے میں امریکا کی معاونت کرنے والا اتحادی مزید انٹیلی جنس فراہم کرنے میں پس و پیش کا شکار ہوسکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یہ معلومات اس قدر حساس نوعیت کی ہیں کہ صرف چند ایک اعلی ترین امریکی عہدیداروں کے علاوہ کسی دوسرے سرکاری اہلکار کو بھی ان تک رسائی کی اجازت نہیں۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر پہلے ہی سے یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران اعلی روسی حکام سے رابطے کیے تھے جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ان کے خصوصی تعلقات بھی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے اس الزام کی تفتیش اب تک جاری ہے جس میں کہا گیا تھا کہ روسی ہیکروں نے امریکی انتخابی نظام میں مداخلت کرتے ہوئے ٹرمپ کےلیے فتح کی راہ ہموار کی تھی۔

Scroll To Top