میں نہیں بھولا۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیں نہیں بھولا وہ تاریخ ساز ٹیسٹ میچ جس میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ایک یقینی شکست کو ایک ناقابلِ یقین کا رنامے میں تبدیل کردیا تھا۔۔۔
تب ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ چھ روز کا ہوتا تھا۔۔۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم دو دن تک کھیلتی رہی اور9وکٹ پر599رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کی۔۔۔ تیسرے دن پاکستان ٹیم چائے کے وقفے سے پہلے 106رنز پر آﺅٹ ہوگئی۔۔۔ امتیاز احمد نے 20رنز بنائے۔۔۔ فالو آن ہوا تو امتیاز احمد نے ایک دھواں دار اننگز کھیلی۔۔۔ آخری لمحات میں انہیں91پر گلکرسٹ کی گیند پر ایل بی ڈبلیوقرار دے دیا گیا۔۔۔ اُس زمانے میں ویسٹ انڈیز کے امپائر بھی کھیلا کرتے تھے۔۔۔ امتیاز احمد نے ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بالرﺅں کا خوف پاکستان کے دیگر بیسٹمینوں کے دلوں سے نکال دیا تھا۔۔۔ حنیف محمد نے کاردار کی کتاب ” گرین شیڈرز“ میں لکھا۔۔۔ ” کاردار صاحب کا یہ کہنا کہ حنیف محمد تم نے اب آﺅٹ نہیں ہونا۔۔۔ اور امتیاز احمد کا یہ ثابت کرنا کہ دنیا کے سب سے تیز بالر کی بھی پٹائی کی جاسکتی ہے۔۔۔ میری رگ وپے میں ناقابلِ تسخیر عزم بن کر پھیل گیا۔۔۔“
میچ کے چوتھے روز حنیف محمد آﺅٹ نہیں ہوئے۔۔۔ میچ کے پانچویں روز بھی حنیف محمد آﺅٹ نہیںہوئے۔۔۔ چھٹے اور آخری روز337رنز بنا کر اور ٹیسٹ ہسٹری کی طویل ترین اننگزکھیل کر جب وہ آﺅٹ ہوئے تو میچ ویسٹ انڈیز کی پہنچ سے بہت دور جاچکا تھا۔۔۔
میںوہ میچ نہیں بھولا۔۔۔
اگلے ہی میچ میں سوبرز نے365رنز بنا کر ٹیسٹ اننگز کے سب سے بڑے سکور کا ریکارڈ قائم کیا۔۔۔ یہ میچ پاکستان ہار گیا۔۔۔ پاکستان نے اس کے بعد کے دو میچ بھی ہارے۔۔۔ لیکن کاردار نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ویسٹ انڈیز کو شکست دیئے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔۔۔
یہ خواب آخری ٹیسٹ میں پورا ہوا۔۔۔ یہ ٹیسٹ پاکستان نے نسیم الغنی اور فضل محمود کی بالنگ اور حنیف محمد کے بڑے بھائی وزیر محمد کی سنچری کی بدولت ایک اننگز اور ایک رن سے جیتا۔۔۔وہ میچ بھی میں نہیں بھولا۔۔۔
وہ ایک ایسی سیریز تھی جس میں پاکستان کے افق پر ایک نیا اسٹار ابھرا جس کا نام سعید احمد تھا۔۔۔ اُس دورے میں انہوں نے ہر ٹیسٹ میں کم ازکم ایک یادگار اننگز ضرور کھیلی۔۔۔ جس اننگز میں حنیف محمد نے 337رنز بنائے تھے اسی میں سعید احمد نے بھی ایک شاندار سنچری سکور کی تھی۔۔۔
14اور15مئی کی درمیانی رات کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا ہوا ہر یادگار میچ مجھے یاد آیا۔۔۔میں اِس میچ کو بھی کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔
اِس میچ میں ہر کھلاڑی مجھے جیت کی خواہش کے جذبے سے سرشار نظر آیا۔۔۔
افسردگی اگر ہے تو صرف اس بات کی کہ اب یونس خان اور مصباح دوبارہ کھیلتے نظر نہیں آئیں گے۔۔۔
خوشی اس سے زیادہ اِس لئے ہے کہ انہیں اپنے الوداعی میچ میں قدرت نے ایک یادگار جیت کا تحفہ دیا۔۔۔

Scroll To Top