ترکی زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد

aaj-ki-baat-new-21-april


میں مصطفی کمال پاشا کو جدید ترکی کا معمار مانتا ہوں۔ اس حقیقت سے انکار کیا ہی نہیں جاسکتا کہ اس صدی کے آغاز میں اگر یہ بطل جلیل ترکی کے افق پر ظہور پذیر نہ ہوا ہوتا تو سلطان عثمانیہ مکمل طور پر پہلی جنگ عظیم کے فاتحین کے درمیان تقسیم کر دی جاتی۔ اس کا کافی حصہ یونان کے قبضے میں جاتا اور باقی کو برٹش ایمپائر ہڑپ کرلیتی۔

مگر اتاترک نے گیلی پولی اور سمرنا کی جنگوں میں عظیم الشان کامیابی حاصل کرکے ” ترک عظمت“ کو قصہ پارینہ بننے سے بچا لیا۔
ترک قوم اپنے اس عظیم محسن کو ہمیشہ سرآنکھوں پر بٹھا کر رکھے گی۔ مگر اسلام کو ترکی سے جلاوطن کردینا یقینی طور پر ترک قوم پر اتاترک کا احسان نہیں تھا۔
تاریخ نے ایک فیصلہ کن کروٹ لی ہے۔
اسلام کو اپنا دین ماننے والے عبداللہ گل ترکی کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ 29اگست2007ءکا دن تاریخ میں ترکی کے نئے سفر کا یوم آغاز قرار پائے گا۔
ترکی نے اپنی کھوئی ہوئی شناخت بحال کرالی ہے۔
اپنی پرشکوہ تاریخ سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑ کر ترکی مسلم نشاة ثانیہ کے خواب کی ایک مضبوط کڑی بن گیا ہے۔
ترک عوام نے اتاترک کے ورثے کو نہیں ٹھکرایا۔ ترک عوام نے اس نظام حیات کو لبیک کہا ہے جس کی کوکھ سے سلطان محمدفاتح، سلطان مراد، سلطان سلیم اور سلطان سلیمان جیسے کشور کشا?ں نے جنم لیا تھا۔
ہم اہل ترکی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
ترکی زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد۔
(یہ کالم گزشتہ برس آج کے دن شائع ہوا تھا)

Scroll To Top