’جمہوریت‘ یا ’مجبوریت‘

sulman

جلسے جلوس جمہوریت کا حسن ہیں یہ عوام الناس کو نہ صرف آگاہی فراہم کرتے ہیں بلکہ ان میں سیاسی شعور بیدار کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں جلسے جلوسوں کی ایک لمبی تاریخ ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جلسے جلسوں کے ذریعے ہی اپنی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی اور’’ روٹی ،کپڑا اور مکان‘‘کے نعرے کو زبان زد عام بنایا۔انکے  ولولہ انگیز جوش وخطابت کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں وہ تقریر کرتے تھے تو سماں بندھ جاتا تھا ۔ جب تک بھٹو بولتے تھے  لوگ سنتے تھے۔ لیکن آج جمہوریت کے نام نہاد  ٹھیکے داروں نے کراچی کی سڑکوں پر اپنے ہی قائد کی نفی کرتے ہوئے کراچی میں پاکستان سرزمین پارٹی کے احتجاجی جلوس پر یلغار کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج پاکستان میں جمہوری  اقدار اصلاً کس حدتک حقیقت ہیں۔ مصطفی کمال کے مطالبات کس حد تک جائز اور درست ہیں ۔پاک سرزمین پارٹی شہریوں کو حقوق دلوانے کے لیے سولہ مطالبات لیکر میدان میں آئی۔ پاک سرزمین پارٹی کے مطالبات اصل میں ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔پاکستان سرزمین پارٹی  کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی گرفتار ی سے قبل آخری ویڈیو میڈیا پر وائر ل  ہےجس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے کسی کو ایک پتھر تک نہیں مارا۔  میں اپنے بچوں کے لیے پانی  اور حقوق مانگنے نکلا ہوں۔

کراچی منی پاکستان ہے ہر صوبے کا پاکستانی یہاں آباد ہے یہ شھر سب کا ہے لیکن افسوس حکمران اسکو یتیم کی طرح ڈیل کرتے ہیں۔  کراچی کی عوام لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت کا شکار ہیں ۔ شہر میں صفائی کا مسئلہ بھی ایک سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ کئی دہائیوں سے سندھ کے تخت حکمرانی پر برجمان پیپلزپارٹی نے سندھ میں جس طرح  لوٹ کھسوٹ اور بند ر بانٹ کے ذریعے صوبہ کا حال کیا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ تھرپارکر میں بھوک کا شکار تڑپتے معصوم بچوں سے لیکر عذیربلوچ، ڈاکٹر عاصم ، شرجیل میمن کی ارب ہا روپے کی کرپشن کی داستانیں  پیپلزپارٹی حکومت کی طرز حکمرانی کی  قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ جس شھر کے ٹیکس پر یہ حکمران عیاشی کرتےہیں اس شھر کو اسکا حق دینے کو تیار نہیں ! یہ کراچی دشمنی کے سوا کچھ نہیں !

انصاف ،مشاورت ،اختیارات کی تقسیم، بنیادی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کا نام جمہوریت ہے۔لیکن  ہمارے ہاں طاقت یا طاقت ور کا قانون نافذ ہے۔ جس ملک   میں عوام اور طاقت ور طبقے کے درمیان قانون برابر نہیں اس ملک کے نظام کو جمہوریت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ مؤاخذہ بطور نظام قائم ہو مگر ملک تو ایک طرف ہمارے ہاں خود سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے لیڈر کے مؤاخذے کاکوئی تصور نہیں۔ چنانچہ جہاں مؤاخذہ نہ ہو اس نظام کو جمہوری نظام نہیں کہا جاسکتا۔ اوّلاً جمہوریت کی بنیاد مستحکم آئینی و قانونی روایات اور اَقدار ہوتی ہیں اور وہ روایات اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ اگربددیانتی اور کرپشن کا کوئی الزام لگ جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو وزیراعظم اور وزراء خود مستعفی ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی خود بھی مستعفی ہو۔ پوری قوم چیخ اُٹھے، عوام سٹرکوں پر ہو، دھرنے ہوں ، نہ کوئی خود آکے اپنی صفائی دیتا ہے اور نہ کسی کے چہرے پر شرم و حیا کا اثر ہی دکھائی دیتا ہے۔پانامہ لیکس سکینڈل اس طرز عمل کی تازہ ترین مثال ہے۔شائد اسلئے شاعر نے کہا تھا :

محل کے سامنے اک شور ہے قیامت کا

امیرِ شہر کو اونچاسنائی دیتا ہے

پھرجمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ قومی ادارے مضبوط ہوں۔ جس ریاست کا کوئی بھی ادارہ ٹھیک سے کام نہ کر پا رہا ہو اس سے کوئی بھی بہتری کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ یہاں انصاف کا نظام ایسا ہے کہ ایک جانب توماڈل ٹاؤن جیسے بدتر ین ریاستی دہشتگردی کے واقعہ کو  کروڑوں لوگوں نے سینکڑوں کیمروں کی آنکھ سے بذات خود لمحہ بہ لمحہ دیکھا ، کیس کی سنوائی میں سالہا سال لگ  جاتے ہیں لیکن کوئی قانون کی گرفت میں نہیں آتا  اور دوسری جانب عدالت عرصہ سے قید مظلوم و بے گناہ کو بری کرتی ہے تو علم ہوتا ہے کہ انھیں تو عرصہ پہلے پھانسی ہو چکی۔ ارض وطن کے حکمرانوں نے مسند اقتدار کو کرپشن کا ایک ذریعہ بنا رکھا ہے۔ کئی کئی بار مسند اقتدار کے مزے لوٹنے والی دو بڑی سیاسی پارٹیاں ارض وطن میں کرپشن اور لوٹ مار کا کھلم کھلا اعتراف تو کرتی ہیں لیکن کوئی اس کا تدارک کرنے کو تیار نہ ہے۔ جب کہ وزیراعظم میاں نواز شریف تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم کرپشن کے تدارک کے چکر میں پڑ گئے تو ترقی رک جائے گی۔ اب وہ یہ کس کی ترقی کی بات کر رہے تھے کہ میاں صاحب خود ہی بتا سکتے ہیں ۔ کیونکہ ملک  اور قوم تب ہی ترقی کیا کرتے ہیں جب وہاں انصاف ہوتا ہے، احتساب ہوتا ہے۔ عوام کے حقوق کا کا تحفظ حکمرانوں کی ترجیحات میں سرے سے شامل ہی نہیں ہے۔ اسلئے شائد مصور پاکستان جناب علامہ اقبالؒ نے بہت پہلے اس  بارے قوم کو ہدایت کی تھی :

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

 

Scroll To Top