میاں صاحب کا ہرنمک حلال اپنی مثال آپ ہے۔

kuch-khabroun-ke-bary-me-2
یہ ابصار عالم جو پیمرا کے چیئرمین ہیں اگر وہی ابصار عالم ہیں جو چند برس قبل دوسرے درجے کے چینلز پر تیسرے درجے کے پروگراموں میں میاں نواز شریف کو ”علیہ السلام“ کے مقام پر فائز کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کرتے تھے تو مجھے اس بات پر کوئی اچنبھا نہیں کہ وہ پاکستان میں میڈیاکی سمتیں طے کرنے والے مرکزی ادارے کے چیئر مین ہیں۔ شاہی عنا یات کا انداز کچھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ اپنے مقدر میں انہوں نے چیئرمینی لکھوالی تھی۔ اور اگر وہ اپنی” چیئرمینی “کی لاج رکھنے کے لیے گاہے بگاہے شاہی انداز کے فرمان جاری کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کو سزاﺅں سے نوازتے رہتے ہیں تو اسے ان کی نمک حلالی سمجھنا چاہیے۔
میاں صاحب اس معاملے میں بڑے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ اُ ن کے ساتھ نمک حرامی کرنے کا خیال تک ان کا نمک کھانے والوں کے ذہن میں نہیں آتا۔ یہ اور بات ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم بنےں گے تو ان کا نمک کھانے والے بھی ”سابق نمک حلال “ قرار پائیں گے۔
اس موضوع پر قلم میں نے جناب ابصار عالم کے اس حکم نامے پر اُٹھایا ہے جو انہوں نے تمام چینلز کے اکابرین کو بھیجا ہے اور جس میں انہوں نے ہدایت دی ہے کہ ”سول ملٹری تعلقات کے خراب ہونے کا ذکر تک نشریات میں نہیں ہونا چاہئے“۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر سول ملٹری تعلقات اچھے ہیں تو پھر چینلز کو اب حکم نامہ جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
تعلقات کتنے اچھے ہیں اس کااندا زہ پوری قوم کو ہوچکا ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ ”اچھے تعلقات“ کو ”برا“ کہنے والے خود ہی ذلیل و خوار ہوں گے۔
ویسے ابصار عالم کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ 1930ءکی دہائی کا زمانہ نہیں۔ اور نہ ہی یہ نازی جرمنی ہے۔ میاں نواز شریف بھی میاں نواز شریف ہی ہیں، ایڈولف ہٹلر نہیں۔ اور جہاں تک خود ابصار عالم کا تعلق ہے ۔ اُ ن کی کوئی ”کل“ یا ”بات“ ڈاکٹر گوئبلز سے نہیں ملتی۔ ڈاکٹر گوئبلز کو جھوٹ کی فیکٹری ضرور سمجھا جاتا ہے لیکن وہ ”کُوڑ مغز“ نہیں تھا۔

Scroll To Top