پھر شاید ہمارے ججوں کو جے آئی ٹی بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی!

kuch-khabrian-new-copy


کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ کی باگ ڈور میاں نواز شریف کے ہمزاد نے سنبھال لی ہے۔ وہی اقربا پروری وہی دوست نوازی اور وہی تجاہل عارفانہ۔ زیادہ اہم یہ کہ دولت کے ساتھ وہی محبت اور بزنس کو دین و ایمان سمجھنے کا وہی انداز۔
مگر امریکہ پاکستان نہیں ہے۔ وہاں جمہوریت کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک گئی ہوئی ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو اس ڈرامے سے ہو گیا ہوگا جو ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے اور صدر ٹرمپ کے درمیان کھیلا گیا۔
جس ثابت قدمی کے ساتھ ایف بی آئی کے ”ڈائریکٹر نے صدر ٹرمپ کے غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کیا ہماری ”جمہوریت“ میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جیمز کومے نے صدر ٹرمپ کے اختیارات سے مرعوب ہونے کی بجائے اپنے عہدے کے فرائض دیانت داری سے ادا کئے۔ وہ امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے خفیہ روابط کی تحقیقات کر رہے تھے۔ یہ تحقیقات صدر ٹرمپ کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود جاری رہی۔ حتیٰ کہ گذشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے جیمز کومے کو ڈسمس کر دیا۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جیمز کومے کی سبکدوشی کے بعد ایف بی آئی کے جس سینئر افسر انیڈریو میکابے کو قائم مقام ڈائریکٹر بنایا گیا ہے اس نے نئی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی پہلا بیان یہ دیا ہے کہ ایف بی آئی کو جیمز کومے پر فخر ہے اور وہ ان روایات کو آگے بڑھائیں گے جو جیمز کومے نے قائم کیں۔
ایسا کیوں ہے کہ امریکی صدر کو امریکہ میں قمر الزمان جیسے لوگ نہیں ملتے۔ اگر قمر الزمان جیمز کومے جیسے ہوتے تو وہ درجنوں ریفرنس داخل دفتر نہ رہتے جن کے مرکزی نامزد ملزمان ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔
پھر شاید ہمارے ججوں کو جے آئی ٹی بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

Scroll To Top