کیا پاکستان ایسے ہی چلتا رہے گا

ahmed-salman-anwer

مجھے سابق بھارتی  جنرل بکرم سنگھ کا حالیہ بیان کہ  ”پاکستانی فوج کو کشمیر سے دور رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پاکستانی عوام کے ساتھ الجھا دیا جائے۔ اس میں بھارت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی عوام میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پیسے کے عوض اپنی فوج اور ملک کےخلاف سب کچھ کرنے کےلئے تیار ہو جائینگے۔“ پاکستانی قوم کے منہ پر طمانچہ کے مترادف للتا ہے۔  فوج اور وطن کیخلاف کام کرنیوالے لوگ غدار کہلاتے ہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بکرم سنگھ زیادہ غلط بھی نہیں ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں تحفظ اور بقا کی ضمانت پاکستان آرمی کے مخالفین کی کمی نہیں ہے۔ جو کہ اکثر مغربی ایجنڈ ا  پر عمل پیرا ہو کر افواج پاکستان اور دیگر اداروں  پر تابر توڑ حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس میں سب سے نمایاں سیاسی پارٹی ’’مسلم لیگ ن‘‘ قابل ذکر ہے۔ مشاہد اللہ، خواجہ آصف اور چوہدری نثار سے لے کر میاں نواز شریف خود براہ راست پاکستان آرمی کو  کئی بار نشانہ بنا چکے ہیں۔ میاں صاحب جب میں اقتدار میں آئے ہیں ان کی کبھی پاک فوج سے نہیں بنی۔ جنرل وحید کاکڑ سے لے کر جنرل مشرف تک ایک تاریخ رقم ہے۔

لیکن حالیہ’’ڈان لیکس‘‘ کا معاملہ دیگر تمام معاملات سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہے۔ انگریزی اخبار ڈان میں سیرل المائڈہ نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے حوالے سے خبر دی۔ اس خبر میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا تاہم حکومت اور فوج دونوں نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ڈان لیکس کے حوالے سے نواز حکومت اور ان کا اپنا کردار ایک عرصہ تک بحث کا موضوع بنا رہا اور ان پر مختلف الزامات بھی لگتے رہے کہ انہوں نے فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے یہاں تک کہ اس معاملہ کو غداری جیسے سنگین فعل کے مترادف بھی قراردیا گیا اور بہی خواہوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر فوج انتہائی اقدام کیوں نہیں اٹھارہی اور ملٹری سویلینز کی پیش قدمی کا طاقت کے ساتھ جواب کیوں نہیں دے رہی؟ ان سوالات کی گن گرج ہمیں زور و شور سے سنائی دیتی رہی ہے۔

بالآخر ڈان لیکس کا بھی ڈراپ سین ہوا اور حکومت کی جانب سے ایک نوٹیفیکشین جاری کیا گیا اور حکومتی نوٹیفکیشن پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ کے بعد حکومتی بینچوں میں جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔لیکن پھر حیرت انگیز طور پر ایک بیان سامنے آتا ہے کہ ڈان لیکس کا معاملہ ’’سیٹل ‘‘ کر لیا گیا ہے۔پاکستان کی فوج نے ’ڈان لیکس‘ سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری نوٹیفیکیشن کو مسترد کرنے والی ٹویٹ واپس لی ہے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ’ڈان لیکس‘ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں دی گئی سفارشات کی وزیراعظم نے منظوری دی جس کے بعد ’ڈان لیکس کا معاملہ طے پا گیا ہے۔‘‘

لیکن ابھی ماضی کے بہت سے کمیشن کی طرح اس کمیشن کی رپورٹ میں شائع نہیں کی گئی ہے۔ ڈان لیکس سیکنڈل ملکی سلامتی کے خلاف ایک سازش تھی جس میں میں پاکستان کی افواج کو پوری دنیا میں بدنام کرتے ہوئے مغربی طاقتوں اور انڈیا کے اس موقف کو تقویت بخشی گئی کہ پاکستان افواج دہشتگرد تنظمیوں کی سرپرست ہے۔بلا شبہ ملکی سالمیت کے خلاف اس سازش کے اصل کرداروں اور حقائق کو جاننا قوم کا حق ہے۔ پاکستان کے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کا معاملہ وزیر اعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان طے پایا ہے لیکن اس میں پارلیمان کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ ڈان لیکس کبھی بھی فوج اور حکومت کا معاملہ نہیں تھا، یہ قومی سلامتی کا معاملہ تھا جب کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ معاملے میں ایسا کیا تھا جسے ’’حل‘‘ کیا گیا۔

اسے نواز شریف کی سیاسی پختگی کہیں یا فن، جو بھی ہو مگر ایک بات ماننا پڑے گی کہ انہوں نے اپنے والد کی طرح جنرلز کو رام کرنے کا فن سیکھ لیا ہے اور یہ فن جنرل راحیل شریف جیسے قومی ہیرو کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔ لیکن ملکی سالمیت جیسے معاملات پر چند افراد کی ’’سیٹلمنٹ ‘‘ ایک خطرناک رجحان ہے۔  ڈان لیکس کے اصل ذمہ داروں کوبچاکرقربانی دی گئی ہے ،اگراصل حقائق قوم کے سامنے نہ لائے گئے تومستقبل میں دوبارہ سنگین مسائل پیداہوسکتے ہیں۔

Scroll To Top