بیک چنیل ڈپلومیسی رنگ لائیگی ؟

zaheer-babar-logoغیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے حال ہی میں ارب پتی بھارتی تاجر سجن جندال کے ساتھ ہونے والی ملاقات بارے اعلی عسکری قیادت کو اعتماد میں لیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے قریبی حلقوں نے اس ملاقات کو بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کا مقصد یہ بتایا تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنایا جاسکے۔یاد رہے کہ قبل ازیں وزارت خارجہ نے اس مٹینگ کو نجی قرار دے کر اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا جبکہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ سجن جندال وزیراعظم نوازشریف کے پرانے دوست ہیں لہذا اس ملاقات کو غلط رنگ نہ دیا جائے“۔
پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی پہلے بھی ہوتی رہی۔ بظاہر اس کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں مگر تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سجن جندال کی مری یاترا کا دونوں ملکوں میں جاری کشیدگی ختم کروانے میں کہاں تک معاون بن سکتی ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ نریندر مودی سرکار کشمیر میں جاری تحریک آزادی سے خاصی پریشان ہے ۔ بی جے پی سرکار پاکستان سے تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ ہو یا نہ ہو البتہ وادی میں اہل کشمیر کے بڑھتے ہوئے غم وغصہ کا ٹھنڈا کرنا اس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ بھارتی وزیراعظم کا تحریک آزادی جموں وکشمیر کو طاقت سے دبانے کی حکمت عملی ناکام ہوچکی لہذا مودی سرکارکے لیے اب یہ آسان نہیںکہ کب اور کیسے کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔
بھارت میں ایسے حلقوں کی بھی کمی نہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کا حل پاکستان سے ہوکر نکلتا ہے۔ نئی دہلی کے پالیسی سازوں کو پسند ہو یا نہ ہو مگر حالات یہی بتارہے کہ مسلہ کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی شمولیت لازم ہے۔مقبوضہ وادی ہر گزرتا دن کشمیری قوم کو بھارت سے دور کررہا۔ وادی کی نئی نسل اب بھارتی سیکورٹی فورسز کے آمنے سامنے ہے ۔ کشمیر میں ظلم وستم سے مظلوم عوام کی آواز کو دبانا آسان نہیں رہا۔نہتے ہونے کے باوجود کشمیری خوف کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو تیار نہیں۔ کم وبیش تیس سالوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ مقبوضہ وادی کے نام نہاد انتخابات میں ٹرن آوٹ انتہائی کم رہا۔ فاروق عبداللہ جیسے کٹھ پتلی سیاست دان بھی دہائی دے رہے کہ اگر بھارت نے اپنا طرزعمل نہ بدلا تو کشمیر اس کے ہاتھ سے نکل جائیگا۔
مودی سرکار کے لیے ایک اور پریشانی کلبھوشن یادو کو فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت دینا ہے۔ کہنے کو بھارت نے عالمی عدالت سے رجوع بھی کرلیا ، عالمی عدالت انصاف میں اس اہم مقدمہ کی سماعت بھی ہونے جارہی مگر اس کا امکان کم ہے کہ را کا حاضر سروس آفیسر کو باآسانی پاکستان سے نکال لیا جائے۔ کہاجاسکتا کہ بظاہر سیاسی اور عسکری حکام کے درمیان بھارتی جاسوس کو سزائے موت دینے کے معاملہ پر اتفاق نہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کو کہنا پڑا کہ میاں نوازشریف جلد کلبھوشن یادو کا نام لیں گے۔
ایک نقط نظر یہ ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت میں بعض قومی مسائل میں اختلاف کی خبریںبے بنیاد ہیں۔ حال میں ڈان لیکس جیسا پچیدہ معاملہ جس خوش اسلوبی سے حل ہوا اس کے بعد یہ امید کرنا غلط نہیں کہ مسقبل قریب میں کلبھوشن یادو کو پھانسی دینے یا نہ دینے پر اتفاق رائے سامنے آجائیگا۔ بھارت جاسوس ماضی میں پاکستان میں پکڑے جاتے رہے ہیں۔ ہر بار ابتدا میں تو بھارت نے انھیں اپنا جاسوس تسلیم کرنے سے انکار کیا مگر مناسب وقت پر انھیں ”دھرتی کا بیٹا “قرار دے ڈالا ۔ کلبھوشن یادو کو تو بھارتی وزیر خارجہ نے ابھی سے ”دھرتی کا بیٹا “کہہ دیا۔اس سے باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی سرکار کس حد تک را کے آفیسر کو پاکستان سے لے جانے کے لیے بے چین ہے۔
افسوس کہ اس بار بھی بھارت کی حکمت عملی ایک بار ڈنگ ٹپاو پالیسی کا تسلسل نظر آتی ہے ۔ بی جے پی سرکار پاکستان سے حقیقی معنوں میں مسائل حل کرنے کی بجائے محض اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ صورت حال ہر اس شخص کے لیے افسوسناک ہے جو دونوں ملکوں میں بہتر تعلقات کی امید لگائے ہوئے ہے۔تقسیم ہند کو ستر سال سے زائد کا عرصہ گزرنے اور دونوں ملکوں میں چار باضابطہ جنگین ہونے کے باوجود اگر بھارتی فیصلہ ساز اپنی انا کے خول سے باہر نکلنے کو تیار نہیں تو یہ بڑا المیہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کے لیے خود کو بھارت کو اپنا طرزعمل بہتر بنانا ہوگا۔ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت بی جے پی سرکار کے لیے نادر موقعہ ہے کہ وہ فائدہ اٹھاتے ہوئے کشیدگی کو بہتر تعلقات کی شکل میں بدل لے۔
یقینا یہ کم اہمیت کا حامل نہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کلبھوشن یادو کو سزائے دینے سے متعلق تاحال خاموش ہیں۔ بہتری کی امید رکھنے والوں کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔(ڈیک) ایک خیال یہ ہے کہ بی جے پی سرکار کے تمام تر پاکستان دشمن اقدمات کے باوجود میاں نوازشریف جنوبی ایشیاءکا امن کسی قیمت پر خطرات سے دوچار نہیںکرنا چاہتے ۔دوسری جانب وزیراعظم پاکستان کی حکمت عملی سے اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جو نوازشریف کی جانب سے مودی سرکار کو ضروری رعایت دینے کا الزام عائد کرتے ہیں۔(ڈیک)

Scroll To Top