بیک چینل ڈپلومیسی کی داستان غداریوں کی داستان ہے

kuch-khabrian-new-copy


میڈیا میں یہ خبر پھیلی ہے کہ جندال کی پُراسرار آمد اور میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی خفیہ ملاقات دراصل اس بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی جو وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعظم بھارت کے درمیان چل رہی ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ اس ملاقات کے بارے میں میاں صاحب نے آرمی چیف کو بھی اعتماد میں لیا۔
میں اس خبر پر زیادہ لمبا چوڑا تبصرہ نہیں کروں گا۔ صرف یہ بتاو¿ں گا کہ غداری کی ہر داستان کے پیچھے بیک چینل ڈپلومیسی ہوتی ہے۔ دو داستانوں کا تعلق تو برصغیر سے ہے۔ پلاسی کی شکست سے پہلے ہی انگریزوں اور میر جعفر کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات طے پا چکے تھے۔ اسی طرح میسور میں جو کچھ ہوا وہ بھی میر صادق اور انگریزوں کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کا نتیجہ تھا۔ غرناطہ کا سقوط بھی وہاں کے آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ اور قسطلہ کے شاہ فرڈی ننڈ کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کا ثمر تھا۔ بیک چینل ڈپلومیسی کی سب سے خوفناک کہانی چنگیز خان کے دور میں ہماری تاریخ کا حصہ بنی جب بغداد کے وزیر اعظم اور تاتاری فاتح کے درمیان خفیہ مذاکرات کے ذریعے طے پایا کہ خوارزم شاہ اور منگولوں کے درمیان جنگ میں عباسی خلافت غیر جانبدار رہے گی۔ اس بیک چینل ڈپلومیسی کے نتیجے میں بلخ وبخارا، سمر قند و تاشقند اور سلجوقی ترکستان کے بیشتر شہروں میں مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے۔
چند ہی برس بعد چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان اور بغداد کے وزیر اعظم ابن علقمی کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی ہوئی جس کے نتیجے میں18جولائی1258 کو بغداد کے دروازے تاتاریوں پر کھول دیئے گئے اور دجلہ کا رنگ انسانی خون نے تبدیل کر ڈالا۔ ابن علقمی کو اس غداری کے نتیجے میں بغداد کی حکمرانی ملنی تھی لیکن ہلاکو خان نے اسے ہاتھیوں کے قدموں میں پھینک دیا۔
میاں نواز شریف کو بیک چینل ڈپلومیسی کا شوق کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب ہمارے سپہ سالار کو ضرور معلوم ہونا چاہئے۔
بھارت جس مقصد کے لئے بیک چینل ڈپلومیسی کا ہتھیار آزما رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن کیا یہ قوم کشمیر سے دستبردار ہونے کا کوئی بھی فیصلہ قبول کرے گی؟

Scroll To Top