آلودگی جذب کرکے ہائیڈروجن بنانے والا آلہ

sungadgetشمسی توانائی سے چلنے والا یہ آلہ آلودگی کوہائیڈروجن گیس میں تبدیل کرسکتا ہے جس سے کئی فوائد حاصل ہوں گے، ماہرین، فوٹو: بشکریہ جامعہ اینٹ ورپ

بیلجیئم: انجینئروں نے ایک انقلابی آلہ بنایا ہے جو ہمارے دو بڑے مسائل حل کرسکتا ہے اول یہ فضائی آلودگی جذب کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہائیڈروجن بناتا ہے۔

یونیورسٹی آف  اینٹ ورپ کے ماہرین نے ایک چھوٹا سا آلہ تیار کیا ہے جو دھوپ سے چلتا ہے اور سورج کی روشنی استعمال کرتا ہے۔ یہ آلودگی کھا کر اس کے بدلے ہائیڈروجن گیس خارج کرتا ہے۔ آلہ ہوا سے پانی کے بخارات جذب کرتا ہے اور جب اس میں آلودہ ہوا داخل کی گئی تو یہ توقع سے بہتر کام کرنے لگا۔

بنیادی طور پر اس ایجاد کے 2 حصے ہیں اور درمیان میں ایک جھلی یا پرت رکھی گئی ہے۔ اس کے دونوں جانب دو اہم ری ایکشن ہوتے ہیں۔ ایک جانب آلودہ ہوا کو صاف کیا جاتا ہے اور آلودگی کو غیرمضر اجزا میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نینومٹیریل کے ذریعے انجام پاتا ہے جو سورج کی روشنی میں اپنا کام کرتا ہے۔

ہائیڈروجن مالیکیول ٹوٹ کر درمیانی جھلی سے گزرتے ہیں اور دوسری جانب ہائیڈروجن گیس سے عمل کرتے ہیں۔ اس ہایڈروجن گیس کو بعد ازاں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جتنی آلودگی ہوگی یہ نظام اتنی ہی ہائیڈروجن گیس بنائے گا۔ اس طرح فوری طور پر صنعتی آلودگی میں اسے استعمال کرکے خطرناک اثرات کو ختم کرکے اس سے ہائیڈروجن گیس حاصل کی جاسکتی ہے۔  تاہم یہ ایک ابتدائی ٹیسٹ ہے اس ایجاد کی اصل افادیت اس وقت سامنے آئے گی جب اس کی بنیاد پر ایک بڑا پائلٹ پلانٹ بناکر اس کی آزمائش کی جائے گی۔

Scroll To Top