چین کی بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت

چینی خارجہ پالیسی سے آگاہ کسی بھی شخص کے لیے یہ جاننا مشکل نہیںکہ تیزی سے تعمیر وترقی کی منازل طے کرتے اس ملک کے لیے دوست اور دشمن دونوں سے تعلقات رکھنا کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ضمن میں تازہ ثبوت بھارت میں تعینات چینی سفیر لو ژاہوئی کی واضح الفاظ میں بھارت کو چین کے 'ون بیلٹ ون روڈ' (ایک خطہ، ایک سڑک منصوبے میں شرکت کی دعوت دینے کی شکل میں سامنے آیا۔ لوژاہوئی کا کہنا تھا کہ نئی دہلی یقین رکھے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے سے کسی کے خودمختار حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق لو ژاہوئی نے یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'مغرب میں کچھ لوگ چین کو غلط سمجھتے ہوئے خیال کرتے ہیں کہ 'ڈریگن' اور 'ہاتھی' اٹل حریف ہیں اور چین بھارت کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ ان کے بعقول یہ نظریہ غلط ہے، ہم بھارت کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ہمیں اس بات سے بہت خوشی ہوگی کہ بھارت مشترکہ ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرے'۔“
چینی سفیر نے جس طرح کھل کر بھارت کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے یہ چین قیادت کے اس پالیسی کا پتہ دیتا ہے کہ ہمسایہ ملکوں سے محاذآرائی کی پالیسی سے ممکن حد تک اجتناب برتا جائے۔ دوسری جانب رواں سال چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم، جی 20 اور برکس اجلاس کے موقع ملاقات بھی متوقع ہے۔
بھارت میں چینی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہوگا، بحیثیت دو بڑے ہمسایوں کے یہ امر فطری ہے کہ ہمارے درمیان کچھ اختلافات ہوں، اہل خانہ کے درمیان بھی کئی مسائل ہوسکتے ہیں'۔“
بھارت وہ واحد ملک نہیںجس کے ساتھ اختلافات ہونے کے باوجود چین اس کے ساتھ معاشی تعلقات میں فروغ چاہتا ہے۔ اس سے بڑی مثال امریکہ کی بھی ہے جس کے ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر کئی تنازعات کے باوجود چین امریکہ تجارتی حجم بتدریج بڑھ رہا۔ چین حکام کے مطابق انھیں بھارت کے تعلقات کے حوالے سے طویل المدتی نقطہ نظر اختیار کرنا ہوگا ۔ یعنی دونوں ملکوں میں دوستانہ تعاون اور ہمسایہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات ہی واحد طریقہ ہے۔
(ڈیک) چین پالیسی سازوں کے مطابق حقیقی ترقی وہی ہے جس کے ثمرات دیگر ملکوں بالخصوص ہمسایوں کو شامل کیا جائے ۔چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بھی دراصل اس فکر کا نتیجہ ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ سی پیک کی شکل میں چین اور بھارت کو نئے مواقع فراہم ہوں گے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں تعاون فروغ پائے گا۔(ڈیک) دو آراءنہیں کہ چین اور بھارت کا سیاسی نظام ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ماہرین کے بعقول بھارت کے سیاسی نظام کے اپنے فوائد ہیں تاہم اس میں آنے والی تبدیلیاں اس پر اثرات مرتب کرتی رہتی ہیں۔مگر تاحال بھارت کو چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر اعتراض ہے بھارتی حکام کا موقف ہے کہ کہ سی پیک منصوبہ آزاد جموں اور کشمیر سے گزرتا ہے جو اس کے لیے خودمختاری کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ چین نے ایک سے زائد بار پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کشمیر کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چین یہ بھی سمجھتا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں لہذا ان میں بہتر تعلقات کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب تنازعات بات چیت کے زریعہ حل کرلیے جائیں۔ ریکارڈ پر ہے کہ چین کی جانب سے دونوںملکوںکے درمیان مصالحت کی بھی پیشکش کی گی جسے بھارت نے باجوہ مسترد کردیا ۔ اس میںشک نہیںکہ بھارت کئی دہائیوں سے مبقوضہ وادی کے باسیوں پر ظلم وستم کے پہاڈ توڈ رہا لہذا وہ دانستہ طور پر ایسے کسی بھی مذاکرتی عمل میں حصہ نہیں لیتا جو بالاآخر کشمیر پر اس کے غاضبانہ قبضہ ختم کرنے کا باعث بنے۔
یقینا چین بھارت اور پاکستان کے درمیان علاقائی مسائل میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا وہ دو طرفہ مذاکرات سے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے مگر بھارت کو یہ بھی گوارہ نہیں۔ یہ پہلو اہم ہے کہ بھارت کے سی پیک پر اعتراضات اٹھانے کے باوجود چین اسے منصوبہ کو معاشی تعاون اور رابطے کو بڑھانے کا بہترین راستہ قرار دیتا ہے۔ ماضی میں بھی سلک روڈ پر بھارت اور چین کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دیتا رہا تو سوال یہ ہے کہ آج چین اس منصوبہ کا خیر مقدم کیوں نہیں کررہا۔ ایک خیال یہ ہے کہ بھارت سی پیک کے نتیجے میں پاکستان کو ملنے والی اہمیت سے کسی طور پر خوش نہیں ۔ بھارت میڈیا اس حوالے سے برملا اپنے خیالات کا اظہار کررہا کہ چین جنوبی ایشائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں ہمیشہ پاکستان کو فوقیت دیتا ہے حالانکہ صورت حال اس کے برعکس ہے۔ دراصل چین کسی بھی خود مختار ملک کی حثیثت سے صرف اور صرف اپنے مفادات کو مقدم سمجھتا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا فائدہ چین کا فائدہ ہے لہذا اسی لیے سی پیک جیسا منصوبہ عمل میں لایا۔ تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کب بھارت سی پیک کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس منصوبہ میں شامل ہوکر اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیگا۔

Scroll To Top