کچھ خبروں کے بارے میں–عمران خان کے ساتھ ایک مکالمہ فوج ہے تو پاکستان ہے۔ پاکستان ہے تو فوج ہے۔

1

پانچ یا چھ برس پہلے کی بات ہے، میں اور عمران خان ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ ہماری منزل ہری پور تھی جہاں کا ایک بڑامقامی لیڈر پی ٹی آئی میں شرکت کا اعلان کرنے والا تھا۔
ہمارے درمیان پاکستان کے مستقبل کے بارے میں بحث چھڑ گئی۔
میں نے کہا ۔”خان صاحب جس نظام کو آپ گرانے کا عزم لے کر نکلے ہیں اس کی فصیلیں اتنی مضبوط ہیں کہ آپ کا عزم پاش پاش ہو جائے گا مگر اس کی فصیلوں میں د راڑ تک نہیں پڑے گی۔“
”اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ جدوجہد ختم کر دیں؟“ عمران خان نے جواباً کہا۔
”میں نے یہ نہیں کہا۔ میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ اِس نظام کو اِس نظام کے اندر رہ کر ہرایا نہیں جا سکتا۔ اس ملک کا آئین اس نظام کا محافظ ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری اس آئین کی پیداوار ہیں جس کی چھتری کے تلے آپ تبدیلی کا پرچم اٹھا کر میدان میں اترے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اس نظام کے پیدا کردہ عفریتوں نے اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر بنا ڈالا ہے۔آپ کو جب بھی فتح کی منزل قریب نظر آئے گی یہ نظام اپنی پوری قوت سے آپ پر حملہ آور ہوگا۔ اگر آپ یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو میاں نواز شریف یا آصف علی زرداری کو للکارنے کی بجائے اُس نظام کو للکاریں جس کی ہر اینٹ یا تو آصف علی زرداری ہے یا میاں نواز شریف۔ آپ کے میدان میں اترنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ ان عفریتوں سے فوج کے علاوہ ہمیں کوئی آزاد نہیں کرا سکتا۔ لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔“ میں نے کہا۔
”آپ فوج کی بہت حمایت کرتے ہیں۔“ خان صاحب نے کہا ۔
”فوج واحد اکائی ہے جس کا وجود پاکستان کے وجود سے جُڑا ہوا ہے۔ فوج ہے تو پاکستان ہے۔ پاکستان ہے تو فوج ہے۔ اس ملک کے سیاسی لیڈروں کی ساری دولت پاکستان سے باہر ہے۔ انہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ پاکستان ہو یا نہ ہو؟“ یہ میرا جواب تھا۔
خان صاحب کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر بولے۔”یہ بات آپ کی درست ہے۔ لیکن یہ جنگ ہمیں ہی لڑنی ہوگی۔“
”تو پھر تیار رہیے۔ آپ پر جوابی حملہ بڑا بھرپور ہوگا۔ یہ نظام اپنے پروردہ عفریتوں کو بچانے کے لئے آخری حد تک جائے گا۔“ میں نے کہا۔
وہ حد اب آ چکی ہے۔ آپ نے یہ خبر پڑھ لی ہو گی کہ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کو ایک غیر قانونی تعمیر قرار دے دیا گیا ہے۔
اگر پاکستان میں کوئی تعمیر قانون کے عین مطابق ہے تو وہ میاں نواز شریف کا جاتی امراءوالا گھر ہے جس میں پورا شہر آباد ہو سکتا ہے۔
اب یہ جنگ ہارنا پاکستان کے عوام افورڈ نہیں کر سکتے۔

Scroll To Top