سورج کبھی مغرب سے طلوع نہیں ہو گا

ahmed-salman-anwer

تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ اور شاہد ہے کہ جب تک احتساب اور سزاؤں کی عملی مثالیں قائم کی جاتی رہیں، معاشرے امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی مثال بنے رہے، جب حکمرانوں میں مصلحتوں نے جڑ پکڑی اور انہوں نے احتساب اور جزا و سزا سے ہاتھ کھینچ لیا، تو معاشرے زوال کا شکار ہوتے چلے گئے اور قومیں تباہ و برباد ہوتی چلی گئیں۔ اس لئے حکم ربانی ہے کہ ’’رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں‘‘۔
تیسری دفعہ منصب اقتدار پر برجمان میاں نواز شریف نے گذشتہ روز میٹرو بس ٹریک کے سنگ بنیاد کی تقریب میں اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں بہت ’’گھپلے یعنی کرپشن‘‘ ہے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے برائیوں کی جڑ کرپشن کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہونے کا یہ عذر بھی پیش کیا کہ اگر ان کی تحقیقات کرنے لگے توسارا وقت گزر جائے گا،ترقیاتی کام رک جائیں گے ۔
میاں صاحب کا یہ اعتراف کوئی نیا نہیں ہے تقریباً لگ بھگ مجموعی طور پر 355 سال پاکستان کی حکمران رہنے والی جماعت کے چوتھی دفعہ منتخب وزیراعلیٰ اور میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف بھی برملا اس بات کا کئی موقعوں پر اعتراف جرم کر چکے ہیں کہ وطن عزیز میں جاری و ساری ’’کرپشن کے حمام ‘‘ میں سب ہی سیاستدان ننگے ہیں اور ہر حکومت نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ لیکن اس بارا عتراف کے ساتھ ساتھ کرپشن کے تدارک سے میاں صاحب نے یہ کہہ کر جان چھڑالی ہے کہ اس سے وقت ضائع ہو گا۔اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت ملک میں میگا کرپشن کے سب سے بڑے الزامات خود نواز شریف اور ان کی فیملی پر ہیں۔ وقت کے حکمرانوں کے ایسے نظریات اور خواہشات انتہائی افسوس ناک اور بھیانک خیز ہے۔
کرپشن ایک ہمہ جہت سماجی برائی ہے،اس کی ان گنت شکلیں اور صورتیں ہیں۔ مگر اس کی سب سے بد تر ین صورت سیاسی اکابرین اور حکمرانِ ریاست کا ملوث ہونا ہے،جو اپنی تجوریوں کو بھرنے اور اقتدار کو دوام دینے کے لئے عوامی فنڈز کا بے دریغ کرتے ہیں،پھر ان کی پیروی میں کرپشن کا یہ سلسلہ تمام اداروں تک پھیل جا تا ہے،اور اداروں تباہ اور ملک برباد ہو جایا کرتے ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ یہ ملک ترقی اس لئے نہیں کررہا کیونکہ یہاں ہر شعبے میں کرپشن ہے ۔یہ وہ ناسور ہے جو ترقی کا دشمن ہے ۔ جہاں یہ بیماری ہوتی ہے وہ معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے پاکستان کا بھی سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے مگر اس ملک پر قابض اشرافیہ جو اس ظلم جبر ناانصافی کے نظام کا بانی اور محافظ ہے اس نے کبھی اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی ،کرتی بھی کیسے کہ ان سب کے مفادات اسی کرپٹ سسٹم سے وابستہ ہیں۔
میاں نواز شریف کا حالیہ اعتراف ان کی نااہلی کے ساتھ ساتھ کرپشن خاتمہ کے حوالے سے ان کی بدنیتی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی سوچ اور ذہنیت کی ہی عکاسی ہے کہ شرجیل میمن پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود اس کی سونےسے تاج پوشی کی جاتی ہے۔ ارب ہا روپوں کے میگا کرپشن کے سیکنڈلز تو روز سامنے آتےہیں لیکن انصاف اور احتساب کہیں نظر نہیں آتا۔ہمارے سسٹم کاحال دیکھیں ایک معمولی صوبائی سیکرٹری فنانس مشتاق رئیسانی کے گھر سے 13 ارب روپے کیش برآمد ہوا ور کیش گننے والی مشین کیش گن گن کرگرم ہوگئیں مگر وفاقی محتسب ادارہ نیب نے ان سے ڈیل کر لی ۔زرداری اور نواز حکومت کرپشن کے بڑی بڑی داستانوں سے مزین ہے۔ رینٹل پاور سے لے کر نندی پور پاور پراجیکٹ تک ، سٹیل مل سے لے کر ریلو ے تک، مثیاق جمہوریت کے نام پر بننے والی ان حکومتوں نے بے دریغ لوٹا ہے اس وطن عزیز کے خزانے کو۔ عوام اور ملکی ادارے تباہی کے گھاٹ اتر گئے اور لٹیروں کے اکاؤنٹ، جائیدادیں، سرے محل اور عشرت کدے ملک اور بیرون ملک خود بہ خود چغلی کھارہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن نام نہاد جمہوریت کا لبادے اوڑھے نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس نظام کے اندر وطنِ عزیز سےدہشتگردی کی بنیاد کرپشن کے خاتمہ کے فوجی عزائم بھی آہستہ آہستہ مدوّم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ بھی ملکی اداروں کے تباہ حالی اور ملک میں جاری ساری کرپشن و لوٹ مار کا برملااعتراف تو کرتی ہے لیکن احتساب و انصاف کے اپنے آئینی فرض منصبی نبھانے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ یہ نظام عوام دشمن مقتدر طبقات کا محافظ ہے۔وقت کے وزیراعظم نے بھی دراصل اس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ اس ظالمانہ نظام کی موجودگی میں پاکستان میں کسی قسم کی مثبت تبدیلی آنا ممکن نہیں۔
مگر کب تک اس ملک کا غریب و مفلوک حال کسان ، مزدور اور معمار اس کرپشن کے ہاتھوں سسک سسک زندگی گزارنے پر مجبور رہے گا ۔۔۔ناجانے اب تک کتنے ہاتھ ہوں گے جو دعا کیلئے اٹھے ہوں گے ، کتنی مظلوم مائوں بہنوں کی آہوں اور فریادوں نے عرش الہٰی کو ہلایا ہوگا، اپنے سامنے بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھتے ہوئے کتنے باپوں کے دل سے دعا نکلی ہوگی کہ اے میرے خدا کسی کو تو توفیق بخش کہ وہ اٹھے اور اس ظلم کے کرپٹ نظام کو بدل دے ۔
بقول مولانا ظفر علی خان۔۔۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہ شعر قرآن حکیم کی آیت کا ترجمہ ہے اور یہ منظوم تخلیقی ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا ہے۔ قرآن حکیم نے یہ اصول صدیوں پہلے واضح کر دیا کہ جب تک ہم اپنے آپ کو تبدیل نہیں کریں گے اس وقت تک خدا کی طرف سے حالات میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ اب قوم کو ریاست یا کرپٹ اشرافیہ کے محافظ موجود نظام سیاست میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنا ہو گا۔

Scroll To Top