پانامہ لیکس جے آئی ٹی پہلا اجلاس،تحقیقات کیلئے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیدی گئی

  • پاناما کیس کے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لیاگیا،تحقیقاتی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر ان کیمرہ اجلاس منعقد کریگی ،جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے معاونت کیلئے ایف آئی اے افسران کا پینل مانگ لیا
  • اجلاس کی ڈرون کیمرے سے کوریج پر جے آئی ٹی ارکان برہم ، سکیورٹی اہلکاروں نے ڈرون قبضے میں لے کر فوٹیج کا معائنہ کیا اور معاملہ رفع دفع کرادیا،جے آئی ٹی کو سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے ایس ایس پی سکیورٹی نے بریفنگ بھی دی

پانامہ لیکس جے آئی ٹی پہلا اجلاساسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جے آئی ٹی اِن ایکشن ہو گئی اور پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے پہلا ان کیمرہ باقاعدہ اجلاس پیر کو منعقدہوا۔ ایف آئی اے کے اڈیشنل ڈی جی واجد ضیا کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے پاناما کیس کے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لیا جبکہ ٹیم نے تحقیقات کا طریقہ کار بھی طے کر لیا۔۔ پانامہ کیس کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے معاونت کےلئے ایف آئی اے سے افسروں کا پینل مانگ لیا ڈرون کیمرے سے کوریج پر جے آئی ٹی ارکان برہم ہوگئے جے آئی ٹی روزانہ کی بنیاد پر ان کیمرہ اجلاس کریگی جے آئی ٹی کو 2کروڑ روپے بھی جاری کردیئے گئے ہیں دوسری جانب ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی ایف آئی اے اور نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات لے گی۔ اسی سلسلے میں جے آئی ٹی کے سربراہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ کر جے آئی ٹی کی معاونت کےلئے افسروں کا پینل مانگ لیا۔۔پینل میں سے ایک افسر کا انتخاب جے آئی ٹی کے سربراہ کریں گے اجلاس کے دوران ڈرون کیمرے سے کوریج پر جے آئی ٹی ارکان برہم ہوگئے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ڈرون قبضے میں لے کر فوٹیج کا معائنہ کیا اور معاملہ رفع دفع کرادیا۔جوڈیشل اکیڈمی میں ہونے والے اجلاس میں جے آئی ٹی کو سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے بھی بر بھی یفنگ دی گئی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کے دوران مختلف زاویوں پر مبنی سوالات اور متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کرنے کیلئے لائحہ عمل بھی تیار کر لیا۔واضح رہے پاناما کیس کی تفتیش کیلئے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے ایف آئی اے کے واجد ضیاء کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ یاد رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں سٹیٹ بینک کے عامر عزیز ، ایس ای سی پی سے بلال رسول ، نیب کے عرفان نعیم منگی ، آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید جبکہ ایم آئی سے بریگیڈیئر کامران خورشید شامل ہیں ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی سربراہی کے فرائض واجد ضیا انجام دے رہے ہیںجے آئی ٹی نے 2 ماہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما فیصلے میں اٹھائے گئے پندرہ سوالوں کے جواب تلاش کریں گے۔یاد رہے پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سناتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور اس ٹیم کی تشکیل کے لیے 6 اداروں سے نام طلب کیے تھے اور قرار دیا تھا کہ عدالت ناموں کا جائزہ لے کر خود جے آئی ٹی تشکیل دے گی جو 15 روز بعد اپنی عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی جب ?ہ 60 روز میں تحقیقات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے جمع کرائے گی۔

Scroll To Top