پاک ایران تعلقات خطرے میں ہیں ؟

zaheer-babar-logo


ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے سرحد پار ایرانی علاقے میں حملے کرنے والے مسلح گروہ کے خلاف کارروائی نہ کی تو ایران پاکستان میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔یاد رہے کہ
میجر جنرل محمد باقری کا یہ بیان گذشتہ ماہ پاکستان اور ایران کے سرحدی مقام میرجاوا میں دس ایرانی سرحدی محافظین کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ۔
وطن عزیز میں ایسے صاحب فکر وونظر کی کمی نہیں جو اس پر کئی بار تشویش کا اظہار کرچکے کہ ملکی خارجہ پالیسی مسلسل مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہورہی۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے محض روایتی دشمن بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے تو اب اس فہرست میں افغانستان ، ایران اور بنگہ دیش کے نام بھی شامل ہوگے۔ اگر مگر چونکہ چنانچہ کی بحث سے قطع نظر سچ یہی ہے کہ پاکستان کے بشیتر پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں جس کا ازالہ ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہوگا۔
(ڈیک) نہیں بھولنا چاہے کہ بھارتی وزیراعظم اعلانیہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کرنے کی دھکمی دے چکے ۔ یقینا ناکامیوں کا زمہ دار روایتی حریف کو قرار دینے کی بجائے ارباب اختیار کو خود احتسابی کی روش اپنانا ہوگی۔ وزرات خارجہ کو بہرکیف جواب دینا ہوگا کہ حالیہ دنوں میں بشیتر پڑوسی ممالک کیوں ہم سے خفا خفا نظر آتے ہیں(ڈیک)۔ ایران مسلح افواج کے سربراہ کا بیان یقینا تشویشناک ہے۔ حالیہ دنوں میں ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر ایران پہلے ہی پاکستان سے بھرپور احتجاج کرچکا۔
ایران مذکورہ حملے کا زمہ دار کالعدم گروپ 'جیش العدل' کو ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ ایرانی حکام یہ بھی دعوے کرتے ہیںکہ کہ ان محافظین کو پاکستانی علاقے سے دور مار بندوقوں سے نشانہ بنایا گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل باقری نے کہا کہ 'ہم اب اس طرح کی صورتحال برداشت نہیں کریں گے۔'
اس بارے اختلاف کرنے کی گنجائش کم ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر اس مسلہ کو حل کرنا ہوگا۔ ان عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرنا ہوگی جو کسی نہ کسی شکل میں سرحدی علاقوں میںسرگرم عمل ہیں ۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ پاکستان بھر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز بھرپور کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آئے روز دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کے ٹھکانوں کو پوری قوت سے ختم کیا جارہا ہے۔اس پس منظر میں یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہیں ہوگا کہ ایران پاکستانی سرحد ایسی کوئی بھی کارروائی نہیں کریگا جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوں۔دراصل پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کررہا۔ خبیر تا کراچی شائد ہی کوئی اہم شہر بچا ہو جہاں انسانیت سوز کاروائیاں نہ کی گئیں۔ ایک طرف اگر دہشت گردوں کے حملے ہیں تو دوسری جانب سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیاں بھی ہیں۔ یہ بات سو فیصد یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ آج کے پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی ایک بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں ۔ یہاں یہ اہم ہے کہ ایران کی فوج کے سربراہ کے بیان سے قبل ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دہقان بھی کہہ چکے کہ پاکستانی ملحقہ سرحد پر ایرانی محافظوں کی ہلاکت پر ایران جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاک ایران تعلقات کی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی صورت حال دو ہزار چودہ میں بھی پیش آچکی جب ایران نے اپنے پانچ سرحدی محافظین کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے ایرانی فوجی اہلکار پاکستان بھیجنے کی بات کی ۔پاکستان نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، بعدازاں مذکورہ مسلہ اغواکاروں سے بات چیت کے بعد حل کر لیا گیا ۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اس معاملے کو بھی افہام وتفہیم سے حل کرنے کی کوشش جاری رکھنا ہوگی۔ اس ضمن میں حال ہی میں
ایرانی کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم نواز شریف سے کئی اعلی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے نام ایک پیغام میں کہا کہ بدقسمتی سے کچھ ممالک پراکسی وار کے ذریعے اسلامی ممالک کی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں دہشت گردوں' کے ہاتھوں سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر افسوس ہے کہ جو حملے کرنے کے لیے پاکستان کی زمین استعمال کرتے ہیں۔“
پاکستان اور ایران کی قیادت کو فوری طور پر ان کرداروں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو دونوں بردار ملکوں میں بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کے درپے ہے ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات خراب کرنے میں جو ملک پیش پیش ہے کہ وہ بھارت ہے جہاں بدقسمتی کے ساتھ ایسا انتہاپسند شخص برسر اقتدار ہے جس کی سیاست ہی مسلمان سمیت ہر اقلیت کے ساتھ نفرت اور تعصب پر مبنی ہے۔ پاکستان میں سیاسی عسکری قیادت کو یہ نقطہ ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہے کہ وطن عزیز کے مختلف شعبوں میں ایسا عناصر فعال ہے جو خوشنما الفاظ اور القاب کے ساتھ اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے میں بھی یہ گروہ ملوث ہوسکتا ہے۔ دراصل پاک ایران تعلقات میں بہتری ایک طرف خطے میں امن ، ترقی اور استحکام کے لیے لازم ہے تو وہی مسلم دنیا میں بھی یہ اتفاق ویکجہتی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Scroll To Top