بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں مستقبل تاریک

zaheer-babar-logo


قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں مبینہ حریت پسندوں کے خلاف 'بڑے پیمانے پر آپریشن' کا آغاز کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت سینٹرل ریزور پولیس فورس اور مقامی پولیس کے 3000 سے زائد اہلکاروں نے ضلع شوپیاں میں درجنوں دیہاتوں کا گھیرا کرکے گھر گھر تلاشی لی۔
پولیس کے بعقول دو دیہاتوں میں قابض فوج کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا چھڑپیں بھی ہوئیں۔“
بھارت کی تازہ کاروائی اس سچائی کو ایک بار پھر پوری قوت سے بیان کررہی کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لیے طاقت کے استمال پر عمل کررہا۔ بعض حلقوں کے مطابق مذکورہ آپریشن ضلع شوپیاں کے مضافاتی علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے لیس افراد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا جارہا کہ یہ وڈیو بھارت نواز افراد کا کارنامہ ہے جنھوں نے فورسز کو یہ بہانہ دیا کہ وہ کشمریوں کے گھروں کی تلاشی لینے کا سلسلہ شروع کردیں۔ یہاں یہ زکر کرنا بھی اہم ہے کہ جولائی 2016 میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد ضلع شوپیاں کے اکثر نوجوانوں میں غم وغصہ نظر آیا۔ ماضی کے برعکس اس بار تحریک آزادی کشمیر میں نوجوانوں اور بھارتی فورسز کے درمیان چھڑپوں میں بڑی حد تک اضافہ ہوچکا۔ مقبوضہ وادی میں سکولوں اور کالجوں کے طلبہ وطالبات جس جوش وخروش سے آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے اس سے نئی دہلی سرکار میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ ادھر 'را' کے سابق سربراہ نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز کی مزاحمت کا بھارتی سیکورٹی فورسز کو آج سامنا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے 'را' کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے اس سوال پر کہ کیا حالیہ غیر مسلح جدوجہد موجودہ حکومت کے دور میں خراب سے خراب تر ہوئی تو انھوں نے کھل کر اس سوال کا جواب اثبات میں دیا۔
حالیہ دنوں میں مبقوضہ وادی میں بڑی حد تک نا امیدی کی فضا پائی جاتی ہے ۔ آج کا کشمیری نوجوان مرنے نہیں ڈرتا۔ شائد یہی وجہ ہے کشمیری طلبہ وطالبات کی حالیہ مزاحمت کی ماضی میںکوئی مثال نہیں ملتی۔ مودی سرکار نے کشمریوں کی جاری تحریک کو قوت سے دبانے کے لیے تمام حربے استمال کیے ۔ یہ کہنا غلط نہیںہوگا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ بھارت کے اندار سے اب یہ آوازیں بھی اٹھ رہیں کہ بھارت کو پاکستان سے مذاکرات کرنے ہونگے ۔ بی جے پی سرکار کو سمجھ لینا چاہے کہ مسائل کا حل صرف مذاکرت میں ہی پنہاں ہے اس ضمن میں جوں جوں تاخیر ہوگی مسائل کا حجم بڑھے گا۔ نئی دہلی کے اس موقف کو کوئی بھی ہوشمند شخص قبول کرنے کو تیار نہیںکہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ آج مقبوضہ وادی میں جو صورت حال ہے کہ وہ کسی طور پر جنوبی ایشیاءمیں مسقل قیام امن کے لیے موذوں نہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس پر بھی دباو ہے کہ وہ آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہ ہو۔(ڈیک) بھارت کو مشورہ بھی دیا جارہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ غیر مشروط انداز میں بات چیت کا آغاز کردے تاکہ کشمریوں کو مثبت پیغام دیا جاسکے۔ ادھر نریندری مودی کے لیے اس تجویز پر عمل کرنا آسان نہیں۔ انتہاپسندوں کے ہاتھوں عملا یرغمال بن جانے والے بھارتی وزیراعظم کیوں اور کیسے پاکستان سے بات چیت کا آغاز کریں گے یہ کہنا مشکل ہے۔(ڈیک)
بھارت کو اندازہ ہونا چاہے کہ اگر مقبوضہ وادی میں پرتشدد کاروائیاں جاری رہیں تو پاکستان میں بھارت مخالف جذبات زور پکڑیں گے۔ نریندر مودی منتخب وزیراعظم ہیں تو نوازشریف پر بھی دباو ہے۔ اندرونی مسائل کے شکار وزیراعظم پاکستان کے لیے بھارت کو کسی قسم کی رعایت دینا ممکن نظر نہیں آتا۔ حال ہی میں بھارت کے معروف بزنس مین سجن جندال کی وزیراعظم سے ملاقات کو پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ہرگز پذائری نہیں ملی۔ کلبھوشن یادو کا معاملہ بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں بڑی رکاوٹ بن چکا۔بھارتی جاسوس نے پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں کا اعلانیہ اعتراف کیا ہے تو دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ ششماسوراج نے اسے بھارت کا بیٹا قرار دے ڈالا ۔ بظاہر فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزا پانے والے کلبھوشن یادو کو پاکستان سے لے جانا ان دنوں مودی سرکار کا بڑا ہدف ہے۔
بھارت پالیسی سازوں کو احساس ہونا چاہے کہ انھیں آج جن حالات کا سامنا ہے اس کی بڑی حد تک زمہ داری ان ہی کے سر ہے۔ مقبوضہ وادی میں طاقت کے استمال کے علاوہ پاکستان میں ان دہشت گرد گروہوں کی کھل کر سرپرستی کی گی جو لسانی ،سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر قتل وغارت گری کرتے رہے۔ یقینا مودی سرکار نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انتہاپسند مودی کی زھنی پستی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اس نے جو وعدے اپنے سخت گیر موقف رکھنے والے ووٹرز سے کیے ان کو کسی نہ کسی شکل میں عملی جامہ پہنانے کے لیے اب کوشش جاری ہے۔بادی النظر میں بی جے پی کی اب تک پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں مقبوضہ وادی میں حالات مذید خراب ہونگے جس کے بعد بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کا استمال بڑھ سکتاہے۔

Scroll To Top