پانامہ کیس حکومتی مشکلات بڑھاتا رہیگا

zaheer-babar-logoگذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی اے کے ایڈشینل ڈائریکڑ جنرل کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جس میں احتساب بیورو، سٹیٹ بنک آف پاکستان ، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن،ایم آئی ای اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہونگے۔ اس کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسے 60 دن کا وقت دیا گیا جس کے دوران ہر دو ہفتے کے بعد وہ پیش رفت سے متعلق اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریگی۔اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے تین رکنی بینچ تشکیل دیا جس میں سپریم کورٹ کے وہی جج صاحبان شامل کیے گے جو پہلے سے پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت کرچکے ۔تازہ پیش رفت میں عدالت عظمی نے سٹیٹ بنک اور سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کی جانب سے دیے گے دونوں نام مسترد کردیے۔
عدالت عظمی جس انداز میں پانامہ لیکس کے مقدمہ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے وہ بلاشبہ حوصلہ افزاءہے۔ پانامہ لیکس کو ملک کے اندار اور باہر ویسی اہمیت حاصل ہوچکی جو دراصل مملکت خداداد میں بدعنوانی بارے سمت کا تعین کریگی اس پس منظر میں حکمران جماعت نے پانامہ لیکس کے فیصلے پر جس قدر خوشی کا اظہار کیا وہ یقینا غیر حقیقت پسندانہ تھا۔ اب تو یہ واضح ہوچکا کہ یہ اہم مقدمہ تاحال ختم نہیں ہوا۔
اس میں شبہ نہیں کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں سے دو نے میاں نوازشریف کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے واضح طور پر نااہل قرار دیا جبکہ تین رکنی بینچ نے معاملہ کی مذید تحقیقات کا حکم صادر کیا۔ حکمران جماعت کے لیے باعث تشویش یہ ہے کہ جن تین فاضل ججوں نے وزیراعظم کو عہدے پر برقرار رکھا انھوں نے بھی کسی طور پر میاں نوازشریف کو صادق وآمین قرار نہ دیا۔عدالت عظمی اس اہم مقدمہ کو لے کر جارہی وہ بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان اس کے سیاسی مضمرات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دوسری جانب سوال یہ اٹھایا جارہا کہ ہماری سیاسی جماعتیں واقعتا ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ ہے، افسوس کہ جواب حوصلہ افزاءنہیں۔
کرپشن یا بدعنوانی کا معاملہ قومی سیاست میں کئی دہائیوں سے چلا آرہا۔ماضی میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومتیں برطرف ہونے کی وجہ بھی بظاہر یہی بنی۔ احتساب کے نام پر مختلف ادارے بھی بنائے گے مگر پھر ہوا کیا۔ایک دوسرے کی بدعنوانی پر اس انداز میں پردہ ڈالا کہ عام آدمی کا احتساب پر سے اعتماد ہی اٹھ گیا۔ جن اداروں کی آئینی زمہ داری تھی کہ وہ بدعنوان عناصر کو نشان عبرت بنائیں ان میں اپنے بندے لگائے گے تاکہ من پسند نتائج حاصل کیے جاسکیں مگر اب سیاسی جماعتوں کی یہ چال آج خود ان کے گلے پڑ چکی۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا کہ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران عدالت عظمی کو اعتراف کرنا پڑا کہ نیب کی بدترین کارکردگی کے سبب اسے دفنانے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا۔
دوسری جانب احتساب کا معاملہ یوں حساس ہوگیا کہ اس ناسور کے خلاف پرنٹ والیکڑانک کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بدعنوانی سے اعلانیہ نفرت کا اظہار کیا جارہا۔ ایسے تمام طاقتور افراد کو قانون کے شنکجنے میں لانے کا مطالبہ کیا جارہا جو کئی دہائیوں سے حساب کتاب دینے کو تیار نہیں۔ شائد وقت آگیا کہ نظام عدل ایسا فیصلے دے جو عارضی طور پر ہی سہی بہرکیف باشعور پاکستانیوں کو پیغام دے ڈالیں کوئی بھی بااثر شخص قانون سے بڑھ کر نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہوگی کہ بطور سیاسی جماعت اس نے ایک طرف عوام کو یہ باور کروایا کہ ان کے مسائل حل نہ ہونے کی کیلدی وجہ وہ طاقتور طبقہ ہے جو اعلی حکومتی عہدوں کے بل بوتے پر پاکستان سے ناجائز زرائع سے رقم بیرون ملک منتقل کرنے میں ملوث ہے۔ عمران خان نے پانامہ لیکس کے سامنے آنے پر اسی لیے اطمنیان کا اظہار کیا کہ حکمرانوںکے خلاف مقامی نہیں عالمی سطح کا ثبوت میسر آگیا۔ اہل پاکستان کی بدقسمتی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پانامہ لیکس کو بنیاد بناتے ہوئے حکمران رخصت ہورہے مگر ہمارے ہان اسے اعلی ترین حکومتی سطح پر سازش قرار دیا جارہا۔
قوموں کی زندگیوں میں تاریخی لمحات آتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ نادر موقعہ ہے کہ وہ اس اہم لمحہ کو ضائع نہ ہونے دے۔ دراصل روایتی سیاسی خاندانوں سے کسی طور پر خیر کی توقع نہیں۔ مال ودولت ہی ان کی ترجیح اول ہے جس میںحلال وحرام کا امتیاز باقی نہیں رہا۔ ایسے طبقہ سے بہتری کی امید کیونکر کی جائے جو ذاتی و خاندانی کاروبار ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔درست ہے کہ گزرے ماہ وسال میں اہل سیاست جو کچھ کرتے رہے ہیں اب بھی کسی نہ کسی شکل میں وہی ہورہا مگر تبدیلی یہ آئی کہ اب رجحان کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوچکیں ۔اس تاثر کو عام آدمی تیزی قبول کررہا کہ اس کے مسائل اس وقت تک کم نہیں ہونگے جب تک وہ طبقہ اپنی روش نہیں بدلے گا جسے عام طور پر حکمران طبقہ کہا جاتا ہے۔(ڈیک)وطن عزیز تبدیلی کے عمل سے گزررہا ۔ ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو وہی بوسیدہ نظام رواں دواں رکھنے کے حق میں ہیں جس سے ان کی نئی نسل کا مسقبل محفوظ ہوجائے دوسری جانب عام پاکستانی کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور ہے جو اپنے لیے بہتر اور محفوظ زندگی کا طلب گار ہے۔ (ڈیک)

Scroll To Top