’’کچھ نادان لوگ ابہام پیدا کر رہے ہیں ‘‘

ahmed-salman-anwer

قیادت کا ایک اور اہم وصف بصیرت یعنی ویڑن ہوتا ہے۔ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بصیرت رکھے بغیر کسی بھی گروہ یا جماعت کا لیڈر بننا ممکن نہیں… اور بصیرت کا براہِ راست تعلق مثبت سوچ اور مثبت بات کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے حکمران وقت ( ن) لیگ قیادت کی اکثریت اس اہم وصف سے عاری ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے ایک ایسی ہوا چلی ہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔میاں نواز شریف ایک با ر پھر فوج اور عدلیہ سے ٹکراو¿ کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔پانامہ لیکس کے ہوشربا مبینہ کرپشن کے انکشافات کے بعد میاں صاحب اس وقت کرپشن، غداری اور توہین عدالت کے مختلف معاملات میں پھنستے جارہے ہیں۔ شریف فیملی کی شوگر ملز کے خلاف قانون اور عدالت کی دھجیاں بکھیرنے کا کیس لاہورہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ جبکہ پانامہ کیس بھی میاں نواز شریف کے اوپر اب ایک واضح لٹکتی تلوار ہے چونکہ اس کیس فیصلہ میں سپریم کورٹ کے دو سنیئر ترین معزز جج میاں صاحب ”صادق اور امین“ کے منصب سے اتار چکے ہیں۔ اب ڈان لیکس کے معاملے میں نواز حکومت پاک فوج کے آمنے سامنے ہیں۔ میاں نواز شریف ڈان لیکس جیسے ملکی غداری کے بدترین سکینڈل کے اصل مجرمان کو بچانے چاہتے ہیں۔ جبکہ سپہ سالار بھی اصل مجرمان کو انجام تک پہنچانے کا عزم کر چکے ہیں۔
ان تمام معاملات کے باوجود میاں صاحب اپنے خاص بھارتی دوست جندال کے ساتھ مری میں ایک متنازعہ ملاقات کی ہے۔ جبکہ ایک طرف وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق عدلیہ بھی زبان تراش ہیں اور ججز کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تو دوسری طرف رانا ثنااللہ و دیگر وزرا¿ کی فوج مخالف ہرزہ سرائی بھی جاری و ساری ہے۔ رہی سہی کسر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے پوری کر دی۔انہوں نے فوج کے چند لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ”نادان“ کا لقب دیا۔ جبکہ دوسری طرف میاں صاحب نے معروف بھارتی بزنس مین سجن جدال کے ساتھ خفیہ میٹنگ سے واضح پیغام دے دیا کہ ان کے دوست کون ہیں اور عزیز کون۔ اس بات کی تصدیق ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی اپنے ٹوئیٹ میں کر چکی ہیں کہ سجن جندال ان کے والد کے بہت ”قریبی دوست “ ہیں۔ یہ وہی ”ٹوئیٹ “ ہیں شائد جن کے بارے میں موصوف وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہیں۔
مجھے یاد پڑھتا ہے کہ یہ وہی چوہدری نثار علی خان ہیں جنہوں نے یقینا ً حب الوطنی میں ایم کیو ایم بانی کو فوج مخالف پراپیگنڈہ پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔لیکن شاید میاں صاحب کی ذات کے لیے ان کا معیار کچھ مختلف ہے۔ یہ دوہرا معیار اس ملک کو کسی بھیانک موڑ کی طرف بھی لے جاسکتا ہے۔ فوج بطور ادارہ ،ہمیں جان سے عزیز ہے۔خارجی اور داخلی دشمنوں کے خلاف یہ ہماری ڈھال ہے۔ کوئی احمق اورخود کش حملہ آور ہی ہو گا جو اس ادارے کے درپے ہو گا۔
بہت سے حلقوں کا کہنا ہے کہ میاں صاحب ایسی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی ان کوغیر آئینی طریقے سے گھر بھیج دے۔ تاکہ وہ کل پھر عوام کو یہ تسلی و تشفی دے سکیں کہ میں” قصور وار“ نہیں تھا بلکہ میرے خلاف کوئی ”سازش “ ہوئی ہے۔ اسلئے چوہدری نثار علی خان بجا اقرار کیا ہے کہ ”کچھ نادان لوگ ابہام پیدا کر رہے ہیں “۔ یقینا یہ وہی نادان لوگ ہیں جو نواز شریف کو ایک بار پھر سیاسی شہید کے مرتبے پر فائز دیکھنا چاہتے ہیںَ
میرے خیال میں اگر بصیرت بازار کی کسی دوکان سے ملتی تو میں ان حضرات کو ضرور تحفے میں لے کر بھیج دیتا۔ سیاستدانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی ملک بہترین فوج کے بغیر باقی نہیں رہتا۔ ملک نہ ہو گا تو کوئی حکمران کیسے بنے گا۔ بالخصوص میں بہت محبت سے نواز شریف سے گذارش کروں گا کہ فوج کے ساتھ سیاست نہ کریں۔ فوج کے ساتھ محبت کریں۔ چودھری نثار انہیں سمجھائیں۔ جو کام خود کر دیا ہے خود ہی اس کا تدارک بھی کریں۔

Scroll To Top