بے نظیر بھٹو قومی سلامتی کے لیے خطرہ؛ اور مریم نواز ؟؟؟؟

isma-tarar-logo

کہا یہ جاتا ہے کہ تمام عمر اسٹیبلشمنٹ محترمہ بے نظیر بھٹو کوقومی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطر ہ سمجھتی رہی۔ اس کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ بی بی پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے خالصتان تحریک کے تمام راہنماﺅں کی فہرست راجیو گاندھی کو اس کے 1989ءکے دورہ¿ پاکستان کے دوران مہیا کی تھی۔ یہ محض ایک الزام تھا جس کو آج تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔
بات یہاں یہ سوچنے کی ہے کہ بی بی جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ، قابل ، سمجھدار خاتون جو کہ دو بارملک کی وزیراعظم بھی رہ چکی ہوں اور جنہوں نے اپنے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی پروگرام بھی دیا ہو۔ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہوسکتی ہیں؟
مگر دوسری طرف وہ خاتون جس کی واحد قابلیت یہ ہے کہ وہ وزیر اعظم صاحب کی ”پیاری“ صاحبزادی ہے ۔ اور جو کہ انتہائی بے شرمی کے ساتھ ماسوائے اپنے والد محترم کے دفاع کے اور کوئی کام نہیں کرتی ،بلکہ کھلے عام اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ معرو ف بھارتی صنعت کار جو کہ حال ہی میں اس کے والد صاحب کی دعوت پر پاکستان میں ایک خفیہ دورہ کر کے گیا ہے اس کے والد کا بہت اچھا دوست ہے ۔ اور جو کہ ڈان لیکس جیسے حساس معاملے کی براہِ راست ذمہ دار ہے ۔وہ قومی سلامتی کے لیے کوئی خطر ہ نہیں؟
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ محض ایک الزام نہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کے اس دوہرے معیار، منافقت اور دو عملی کی کوئی خاص وجہ ؟ کیوں بی بی کے ساتھ بھی وہ رویہ نہ برتا گیا جو کہ مریم نواز کے ساتھ برتا جار ہا ہے؟
کیوں بی بی کو ایک اور موقع یا شک کا فائدہ نہ دیا گیا جیسا کہ مریم نواز کو دیا جار ہا ہے؟ کیا وہ بھی مریم نواز کی طرح قوم کی بیٹی نہیں تھیں؟
کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف ہمیشہ سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا رہے ہیں؟
یا اسلئے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی اپنی ہی پیداوار ہیں؟ کسی ناکردہ نہیں بلکہ کردہ گنا ہ کی پیداوار؟
کیا اسی وجہ سے ہی ان کے خاندان کے لوگ اور ان کے حواری ہر کام اور فعل سے بری ہیں؟
اگر یہ سب سچ ہے تو یہ ایک نہایت افسوس ناک صورتحال ہے۔ اور اگر یہ سب اسی طرح جاری رہا تو ڈر ہے کہ کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو قوم” ان “کو کبھی معاف نہیں کرے گی!

Scroll To Top