ترک صدر نے پاکستانیوں کے دل جیت لیے

zaheer-babar-logo
ترک صدر کا بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر مسلہ کشمیر کو حل کرنے کا مطالبہ ہرگز معمولی پیش رفت نہیں۔ اپنے دورے بھارت کے دوران طیب اردگان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے مایوس کن صورت حال ہے جبکہ اسے حل کرکے کافی حد تک عالمی امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ترک صدر نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مسلہ کشمیر کے حل کے لیے کثیر الجہتی مذاکرت ہونے چاہیں۔ ادھر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ہم اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔“
پاکستان اور ترکی کے دوستانہ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ترکی کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں اہل پاکستان کی عزت واحترام میں کوئی کمی روا نہیں رکھی جاتی۔ حالیہ سالوں میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑی حد تک فروغ ملا جس کا ثبوت طیب اردگان کی جانب سے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے پوری قوت سے آواز بلند کرنا ہے۔ اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی بحث سے قطع نطر اس میں شک نہیں کہ تحریک آزادی کشمیر جس مرحلے میں داخل ہوچکی وہاں بھارتی فوج خود کو بے بس محسوس کررہی ہے۔ آج مظلوم اورنہتے کشمریوں پر طاقت کا اندھا دھند استمال بھارت کو فائدے دینے کی بجائے نقصان دے رہا۔ مقبوضہ وادی میں جاری صورت حال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے آگاہ ہیں کہ جب سکول اور کالجوں کے لڑکے لڑکیاں بھارتی جبر واستحصال کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرچکے تو اس کا واضح مطلب یہ کہ خوف کا ہتھیار موثر نہیں رہا۔
کشمیرنسل درنسل بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ وادی میں کون سے ایسا ظلم ہے جو نہتے کشمریوں پر روا نہیں رکھا گیا مگر تحریک آزادی مسلسل جاری وساری ہے۔ کشمیر کے مظلوم لوگوں کی داد رسی نہ ہونے کا ایک بنیادی سبب ان کا مسلمان ہونا بھی ہے۔ ایسے ماحول میں جب اہل مغرب کی اکثریت مسلمانوں اور انتہاپسندی کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی غلطی کرچکی آخر کیوں مقبوضہ کشمیر ، فلسطین ، برما اور افغانستان میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش میں مبتلا ہوگی۔ یہ بھی زھن نشین رہے کہ بھارت جنوبی ایشیاءیا اقوام عالم کا ہرگز کم اہم ملک نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارتی ریاست اربوں کی آبادی رکھتی ہے۔ پڑوسی ملک میں تیزی سے فروغ پاتی مڈل کلاس بھی مغربی معشیت کو اس پر مجبور کرچکی کہ وہ بھارت کی خامیوں کی بجائے اس کی خوبیوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔ اقوام عالم کا انسانی حقوق کی پامالی بارے حساس ہونا الگ معاملہ ہے مگر اس میں شک نہیں کہ ہر مسلمہ اخلاقی اصول معاشی مفادات کے سامنے ہیچ قرار پاتا ہے۔
پاکستان اور کشمیری قیادت کو درج بالا صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے کر حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مقبوضہ وادی کو ایک بار پھر اٹوٹ انگ قرار دینا حیران کن نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سے یہ توقع رکھنا عبث ہوگا کہ وہ مسلمانوں یا پاکستان کو کسی قسم کی کوئی رعایت دینے کو تیار ہوجائیں۔ ادھر ہماری خارجہ پالیسی کا محور ومرکز تنازعہ کشمیر نہ ہونا افسوسناک کے علاوہ تشویشناک بھی ہے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کا کشمیر کمیٹی کے چیرمین پر اعلانیہ عدم اعتماد کا اظہار اس سچائی کو بیان کرنے کے لیے بہت کافی ہے کہ پاکستان کو اپنی زمہ داریاں پوری سنجیدگی سے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ ملکی سیاسی ومذہبی قیادت کی کشمیر پالیسی میںبدستور ابہام ہے۔ شائد یہ نقطہ فراموش کیا جارہا کہ جس دن بھارت نے کشمریوں کی تحریک آزادی کو مکمل طور پر قابو پالیا اس کا اگلا نشانہ پاکستان ہی ہوگا۔ مسلہ کشمیر کو اہمیت دینے کامطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوجائے۔ یقینا پاکستان اور بھارت ہمسایہ ریاستیں ہونے کے علاوہ ایٹمی قوت کے ملک ہیں جن میں کسی قسم کی بدگمانیاں حالات کو اس نہج پر لے جاسکتی ہے جس سے واپسی شائد ممکن نہ ہو۔
(ڈیک)ترک صدر نے زمینی حقائق کو ہی بنیاد بناکر تنازعہ کشمیر پر کثیر الجہتی مذاکرت کی اہمیت پر زور دیا۔ بھارتی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے ، مقبوضہ وادی کو اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ حالات کو مذید گھبیر بنا سکتی ہے۔ بھارتی سیاست دانوں اور میڈیا نے طیب اردگان کی تجویز کو جس طرح آڈھے ہاتھوں لیا وہ ان کی محدود زھنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ (ڈیک) بھارت باخوبی جانتا ہے کہ وہ پاکستان کوبزور قوت دبانے کی اہلیت نہیںرکھتا۔ مودی سرکار پاکستان میں وہی کچھ کرسکتی ہے جو اب تک کسی نہ کسی شکل میں کررہی ہے۔ لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر قتل وغارت گری کرواکر پاکستان میں امن وامان کی صورت حال ہر وقت خراب رکھنا پڑوسی ملک کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔
سی پیک کا منصوبہ جس تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہا اس کے بعد یہ یقین کرنا خلاف حقیقت نہیںکہ آج نہیں تو کل بھارت کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔دنیا بھر میں سیاسی اختلافات پر معاشی مفادات غلبہ حاصل کررہے۔ مودی سرکار اس حقیقت کو جس قدر جلدی پالے وہ بہتر ہے کہ پاکستان اور بھارت کا محفوظ اور روشن مسقبل اسی صورت ممکن ہے جب دونوں ملک اپنے اختلافات بات چیت کے زریعہ حل کرکے امن ، خوشحالی اور دوستانہ تعلقات پر متفق ومتحد ہوجائیں۔

Scroll To Top