ہمارے ”پیارے“ وزیراعظم نے حب الوطنی کا مفہوم بدل ڈالا

isma-tarar-logo

بات کچھ یوں ہے کہ ہمارے ”پیارے “ وزیر اعظم کے ”پیارے “ دوست سجن جندال کی پاکستان میں دھماکہ خیز ”خفیہ “ آمد نے پوری قوم کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے اور بس ایک جملہ زبان زدِ عام ہے کہ آخر کار اِن حالات میں اس ”خفیہ“ ملاقات کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ اور یہ بھی کہ اگر ملاقات اس قدر اہم اور ضروری تھی تو اس کو پوشیدہ رکھنے کی کیا خاص وجہ تھی؟
اس ضمن میں جہاں ایک طرف وزیر اعظم صاحب کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ وہیں دوسر ی طرف افواج پاکستان، خاص طور پر آئی ایس آئی چیف کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے۔ مثلاً یہ کہ کلبھوشن اور احسان اللہ احسان کے انکشافات کے بعد جب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان کے حالات بگاڑنے میں بیرونی طاقتوں خاص طور پر افغانستان اور بھارت کا ہاتھ ہے، تو وزیر اعظم صاحب کو تو بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں یہ بات واضح کردینی چاہیے کہ اس ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی ہر طاقت کا بھرپور جواب ہم دینا جانتے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئی ایس آئی چیف کی چونکہ وزیر اعظم کے ساتھ کچھ رشتہ داری ہے اس واسطے انہوں نے اس ملاقات کا علم ہوتے ہوئے بھی اس کو ہونے دیا۔
میری ناقص رائے کے مطابق ہمارے ”پیارے“ وزیر اعظم صاحب کے ساتھ یہاں پر تھوڑی سی زیادتی ہورہی ہے۔ اب دیکھئے، سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب پانامہ فیصلے کے بعد سے آج کل کچھ مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔
اور جب انسان کسی بھی مشکل دور سے گزر رہا ہو تو ایسے میں اُس کو کسی اپنے کے سہارے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ”دوست“ کی، کسی ”ہمدرد“ کی۔ تو میاں صاحب کو بھی قدرتی طور پر کسی دوست کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو گی۔ آخر کار وہ وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی ہیں۔
اور ان حالات میں مودی اور جندال سے بہترین دوست اور کون ہوسکتے ہیں۔ اب اگر اس مشکل گھڑی میں میاں صاحب نے اپنے ”دوست “ سے پورے ریاستی پروٹوکول کے ساتھ ملاقات کر لی تو کیا بڑی بات ہو گئی؟ آخر دوست ہوتے کس لیے ہیں؟…. اسی لئے ناں کہ مشکل وقت میں کام آسکیں۔ اور پھر ضروری تو نہیں کہ ملاقات میں میاں صاحب نے صرف ذاتی اور کاروباری مسائل پر ہی بات چیت کی ہو۔
یہ بھی تو ہو سکتا ہے ناں کہ پانامہ فیصلے کے بعد میاں صاحب کچھ بدل سے گئے ہوں اور ان کے اندر اچانک ہی جذبہ¿ حب الوطنی جاگ اُٹھا ہو اور انہوں نے جندال کے ذریعے اپنے دیرینہ ”دوست“ مودی کو یہ پیغام بھجوایا ہو کہ وہ اپنی پاکستان مخالف سرگرمیاں ترک کر دے، ورنہ میاں صاحب اُس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ میاں صاحب نے سوچا ہو کہ جاتے جاتے زندگی میں کچھ تو نیک کام ملک کے لیے کر ہی لیں۔ ہر بات کو منفی رنگ دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ کبھی کبھی مثبت پہلوو¿ں پر بھی غور کرناچاہیے۔
اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے ناں کہ چیف صاحب نے جان بوجھ کر یہ ملاقات ہونے دی۔ تاکہ وہ جان سکیں کہ ملاقات کس نوعیت کی ہے اور اس میں کیا معاملات طے پائیں گے۔ یا پھر مودی کو یہ واضح پیغام بھی انہوں نے ہی میاں صاحب کو دینے کو کہا ہو۔
ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس ”پیارے “ پاکستان میں !!!
٭٭٭٭٭

Scroll To Top