لمحۂ فکریہ

ahmed-salman-anwer

کسی بھی قوم کی کامیابی کے لیے صالح قیادت کی موجودگی ایک ضروری شرط ہے۔ یہ شرط پوری ہوجائے توقوم کامیابی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔یقیناً کسی انسانی گروہ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے ایک واضح نصب العین ہو، اس کو ایسی قیادَت میسر آئے جو صادق ہو، قائدانہ صفات کی حامل اور نصب العین کے عشق سے سرشار ہو اور اس کے عوام قیادت کے ساتھ پورا تعاون کریں۔ آئین پاکستان کے مطابق پاکستان کا حکمران صادق اور امین ہوگا، لیکن بدقسمتی سے پچھلی کئی دہائیوں تک صادق اور امین لوگوں کی بجائے،ارض وطن پاکستان پر انکا راج ہے، جنہوں نے حرام کھایا اور حرام کمایا ہے۔
قوموں کی زندگی میں وہ ادوار کتنے تکلیف دہ ہوتے ہوں گے جب قیادت کے منصب پر ایسے افراد فائز ہوں ۔ جوصادق اور امین نہ رہیں ۔ جنہیں اپنے منصب کے تقدس کی پرواہ ہو اور نہ اپنی عزت کا خیال۔ ایسی ہی ناگہانی صورت حال سے ارضِ وطن پاکستان دو چار ہے۔ پاکستانی قوم ارتقائی اورمعنوی لحاظ سے وقت کے سفر میں حال سے ماضی کا جانب چلے جا رہے ہیں۔ ان کی زندگی صحیح معنوں میں بانی پاکستان کی بتائی ہوئی شاہراہ پاکستان پرابھی تک چل ہی نہ سکی۔ ہمارے ماضی کے حکمرانوں اور اداروں نے ہمیں کھوکھلے نعروں اور جھوٹے لاروں کے سوا کچھ بھی نہ دیا ۔ حتیٰ کہ بلند بانگ دعوؤں کے مالک سپریم کورٹ کے اعلیٰ تین ججز نے پانامہ لیکس کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر ایک کمزور سی جے آئی ٹی کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔
پانامہ لیکس بنچ نے قوم کو طویل انتظار کی سولی پر لٹکانے کے بعد آخر کار عبوری فیصلہ سنا کر قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے دو سینئر ترین ججوں نے وزیر اعظم کے بارے میں فیصلہ دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں ۔دونوں جج صاحبان نے الگ الگ فیصلوں میں اسی بنا پر نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے ۔کسی بھی مہذب ملک میں اعلیٰ ترین عدلیہ کے ججز اگر ملک کے سربراہ کو جھوٹا قرار دے تو ان کے پاس عہدہ پاس رکھنے کا اخلاقی طور ختم ہوجاتا ہے۔عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لیکن شومئی قسمت یہاں مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں کہ نااہلی سے بچ گئے ہیں۔
یقینا عدلیہ کے فیصلے صرف عدلیہ کے فیصلے نہیں ہیں یہ اجتماعیت کے آئینہ دار ہیں۔اگر پانامہ کیس کے حالیہ فیصلے میں وزیر اعظم صاحب کی نااہلی کو سطحی طور پر دیکھیں گے تو یہ سوال ذہن میں اٹھے گا کہ ایک بہت بڑا طبقہ تو اسے مسترد کررہا ہے۔ گہرائی میں تجزیہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ وزیراعظم صاحب کی فوری نااہلی کو مسترد کرنے والے محترم جج صاحبان عدلیہ اور اس کے فیصلے کو نہیں، دراصل خود کو مسترد کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ واحد فیصلہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے پانچوں ججز اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ اُمید کی جارہی تھی کہ پانامہ کیس کا فیصلہ پاکستان کو بحرانوں سے نکال دے گا لیکن اس فیصلہ نے ارض وطن کو نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید شدید ہوتا نظر آرہا ہے۔
پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے بعد خود عدلیہ کے ایک اہم حصہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے وکلا تحریک چلانے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔پاناما لیکس کے معاملے پر دنیا بھر سے استعفے آئے، مگر وزیراعظم نوازشریف نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔میرے مطابق وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ جائز ہے کیوں کہ ماتحت افسران وزیراعظم کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات نہیں کر سکتے۔لیکن میاں صاحب کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ استعفیٰ دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ جی آئی ٹی کی تشکیل کے کمزور فیصلے نے ملک کو ایک نئی صورتحال سے دو چار کر دیا ہے۔
پانامہ کیس دراصل دو پارٹیوں کے درمیان فیصلہ نہیں بلکہ 20کروڑ عوام کا کیس ہے۔ملک کی لوٹی ہوئی دولت کا معاملہ ہے۔ ملک کے ہر شہری کا آئینی حق ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔یہ ایک ایسا فیصلہ بھی ہے کہ جس میں اعلیٰ عدلیہ کواپنے اوپر لگے ”نظریہ ضرورت“ کے داغ کو صاف کر سکتی تھی اور عدلیہ کو اسی وقار میں لاسکتی تھی جس کی وہ حق دار ہے۔
پانامہ فیصلہ آنے والے دنوں میں کیا رخ اختیار کریگا اسکے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ قانون کے طالب علم اس فیصلے کو دلچسپی سے پڑھا کرینگے کیونکہ یہ فیصلہ قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ ”پیس آف لٹریچر“ بھی ہے۔ فیصلے کا آغاز شہرہ آفاق ناول ”گارڈ فادر“ کے اس تاریخی پر مغز جملے سے کیا گیا ہے۔ ”ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے جو اس مہارت سے کیا جاتا ہے کہ اس کا کھوج لگانا آسان نہیں ہوتا“۔ فیصلے کا اختتام مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس شعر پر کیا گیا ہے۔
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب
بلاشبہ یہ کام عدلیہ کاہے کہ اپنی قلم سے کسی کی تقریر کا فیصلہ کردے۔کسی وزیراعظم کو پھانسی پہ لٹکادے۔یہ سپریم کورٹ کی دیواروں پہ لٹکتی شلواروں پہ سوموٹولے لے اور چاہے تو ماڈل ٹاؤن میں لٹکتی لاشوں پہ خاموش رہے۔ہماری عدلیہ میں بہت سے ایسے بہترین جج حضرات گزرے ہیں۔جن کے فیصلے اصولوں کی بنیاد پہ تھے ۔ کچھ اعلیٰ پائے کے جج بھی تاریخ کا حصہ ہیں جو سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر آزادانہ فیصلے کرنے سے محروم رہے۔
مجھے ایک مشہورشعر ضرور یاد آیا :
جب مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
گرمنصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

Scroll To Top