پانامہ کیس فیصلہ: وزیراعظم کو2ججوں نے مجرم3نے ملزم قرار دیدیا

  • رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں،سپریم کورٹ کا مشترکہ جے آئی ٹی بنانے کا حکم، وزیراعظم اور صاحبزادے پیش ہونگے
    دو ججز نے وزیر اعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا ، تین کا معاملے کی تحقیقات کی رائے کا اظہار ،جے آئی ٹی میں ایم آئی ،ایف آئی اے ،آئی ایس آئی اورایس ای سی پی کے نمائندے شامل ہونگے جو 60روز میں تحقیقات مکمل کریگی
  • چیئرمین نیب غیر رضامند پائے گئے ، اپنا کام کر نے میں ناکام رہے، ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے ، الزامات کی تحقیقات بند گلی میں نہ رہ جائیں ،چیف جسٹس سے علیحدہ بینچ بنانے کی استدعا

Image result for ‫پانامہ کیس فیصلہ‬‎
اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس کی تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیدیا ہے ، جے آئی ٹی میں ایم آئی ،ایف آئی اے ،ایس ای سی پی کے نمائندے شامل ہونگے اورجے آئی ٹی ساٹھ روز میں تحقیقات مکمل کریگی ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس کا 540 صفحات پر مشتمل پہلے سے محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنا یا ،یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ،بینچ میں شامل 5 میں سے 2 فاضل ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں وزیر اعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا جبکہ دیگر 3 جج صاحبان نے معاملے کی تحقیقات کی رائے کا اظہار کیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سنانے سے پہلے کہا کہ فیصلہ 547 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سب نے اپنی رائے دی ہے ،امید ہے جو بھی فیصلہ ہوگا عدالت میں جذبات کا اظہار نہیں کیا جائےگا۔ تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول دی گاڈ فادر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ہر عظیم قسمت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے۔فیصلے کے ابتدائی نکات میں کہا گیا کہ رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں ، فیصلے میں کہاگیا کہ چیئرمین نیب غیر رضامند پائے گئے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔چیئرمین نیب اپنا کام کرنے میں ناکام رہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے سات روز میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے فیصلے میں کہاگیا کہ وزیراعظم نواز شریف اور انکے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جے آئی ٹی ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے ،چیف جسٹس آف پاکستان اس رپورٹ کی روشنی میں ایک علیحدہ بینچ تشکیل دینگے ۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کا ایک نمائندہ ہوگا جو ایڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدے سے کم کا نہیں ہوگا اس کے علاوہ ایک ایک نمائندہ نیب، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور سٹیٹ بینک سے ہوگا ، آئی ایس آئی اور ایم آئی سے بھی دو تجربہ کار افسران اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ فیصلے میں کہاگیا کہ تمام نمائندوں کو ان کے اداروں کے سربراہان نامزد کریں گے ، ان اداروں کے سربراہان سات روز میں نمائندوں کے نام بینچ کے سامنے جمع کروائیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے۔عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے وکلاءکی جانب سے سماعت کے دوران بطور ثبوت پیش کیے گئے قطری خطوط کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ رقم قطر کیسے منتقل ہوئی جبکہ گلف اسٹیل ملز کے معاملے کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیافیصلے میں سوال کیا گیا کہ گلف اسٹیل کیسے بنی اور کس طرح فروخت ہوئی؟گلف اسٹیل فروخت ہوئی تو واجبات کیسے منتقل ہوئے؟سرمایہ کیسے جدہ، لندن اور قطر پہنچا؟کم عمر بیٹوں نے نوے کی دہائی میں لندن میں فلیٹس کیسے خریدے ؟دوران سماعت اچانک قطری شہزادے کا خط آجانا حقیقت ہے یا فسانہ؟قطریوں کے فلیٹس میں شیئرز کی شفافیت کیا ہے؟نیلسن اور نیسکول کمپنیوں سے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں؟ہل میٹل اورفلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور دیگر کمپنیز کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا؟حسن نواز نے کیسے ان کمپنیز کو حاصل کیا؟ان کمپنیز کو چلانے کیلئے اربوں روپے کا سرمایہ کہاں سے آیا؟حسن نواز نے میاں نواز شریف کو کہاں سے لاکھوں روپے تحفے میں دئیے؟سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ سوالات اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان تمام سوالات کی روشنی میں تحقیقات بہت ضروری ہیں۔ فیصلے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جسٹس اعجاز افضل،جسٹس عظمت سعید شیخ کے فیصلوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ معلومات کو انٹرنیشنل کونسل آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیااور درخواست گزاروں کا مقدمہ اسی ویب سائٹ کی دستاویزات پر مبنی ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے ،انہیں نااہل قرار دینا چاہئے، بچوں کی وضاحت بھی قبول نہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ لندن فلیٹس سے متعلق عدالت اور قوم کو مطمئن کرتے، وزیر اعظم لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ایسا کرنے میں ناکام رہے، ایسی صورت میں عدالت محض تماشائی نہیں بن سکتی۔ جسٹس اعجاز افضل کی طرف سے تحریر کئے جانے والے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین نیب نے معاملے کی تحقیقات کیلئے غیررضامندی ظاہر کی جس پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس عظمت سعید شیخ ، جسٹس اعجاز افضل ،جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ،عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں ،درخواست گزاروں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف ،کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیا جائے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مجموعی طور پر دو مرحلوں میں 36سماعتوں میں کیس کو سنا اور اس دور ان 25ہزار دستاویزات پیش کی گئیں ۔ پہلے مرحلے میں جب چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے4 جنوری 2017 سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا ، سماعت کے دوران جسٹس بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید شیخ کو دل کی تکلیف کا بھی سامنا ہوا جس کی وجہ سے کیس کی سماعت کچھ دنوں کےلئے ملتوی کی گئی۔

Scroll To Top