سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم فوری طور پر مستعفی ہوں: عمران خان

  • ساٹھ روز تک وزیر اعظم اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں وہ صادق اور امین نہیں رہے،الزامات سچ ثابت نہ ہوئے تو عہدے پر واپس آجائیں
  • منی ٹریل کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے موقف کو مسترد کردیاگیا،وزیراعظم کے ماتحت ادارے اُن کیخلاف تحقیقات نہیں کرسکتے، قومی اسمبلی اجلاس میں شریک ہونگے،پریس کانفرنس

Image result for ‫عمران خان‬‎
اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانا ما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم سے فوری طورپر مستعفی ہو نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ساٹھ روز تک وزیر اعظم اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں وہ صادق اور امین نہیں رہے ,اگر الزامات سچ ثابت نہ ہوئے تو عہدے پر واپس آجائیں،منی ٹریل کے حوالے سے مسلم لیگ نون کے موقف کو مسترد کردیاگیا،وزیراعظم کے ماتحت ادارے اُن کیخلاف تحقیقات نہیں کرسکتے۔ جمعرات کو بنی گالا میں پارٹی کے دیگر رہنماﺅں کے ہمراہ پانا ما کیس فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز کو قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں ¾ ملک میں ایک تاریخ بنی ہے کہ موجودہ وزیر اعظم کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کیس سنا ¾ ججز نے تین ماہ تک اس کیس کی سماعت کی پاکستان کی تاریخ میں ایسا فیصلہ کبھی نہیں آیا انہوںنے کہاکہ فیصلہ آیا ہے کہ پانچوں ججز نے قطری خط کو مسترد کر دیاہے اور اس کی تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی تشکیل دی ہے اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوںنے منی ٹریل کے حوالے سے جو بھی موقف پیش کیا ہے سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا ہے فیصلے میں دو ججز نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو فوری طورپر نا اہل قرار دیا جائے کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔عمران خان نے کہاکہ قوم کی طرف سے نواز شریف کو کہتا ہوں کہ وہ فوری طورپر مستعفی ہوںجبکہ جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی وہ اپنے عہدے سے ہٹ جائیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے پاس کونسا اخلاقی جواز باقی رہ گیا ہے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم رہیں انہوںنے کہاکہ عزیر بلوچ کی طرح ان پر جے آئی ٹی الزامات کی تحقیقات کریگی ان کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے وہ وزیراعظم رہیں ¾انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں پہلے ہی نیب کو تحقیقات میں ناکام قرار دیا ہے صرف ایم آئی اور آئی ایس آئی کے علاوہ اب بھی باقی ادارے وزیراعظم کے نیچے ہونگے جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دے دیتے تحقیقات ٹھیک نہیں ہوسکتیں عمران خان نے کہاکہ ملک میں اتنے مسائل ہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے معیشت تباہ ہوگئی ہے ان حالات میں نوازشریف کس طرح ملک کے مسائل پر توجہ دے سکتے ہیں وہ ملک کو بچائیں گے یااپنے آپ کو بچائیں گے استعفے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اگر وہ ساٹھ دن میں کلیئر ہوجاتے ہیں تو اپنے عہدے پر واپس آجائیں یوسف رضاگیلانی کے حوالے سے بھی انہوں نے یہی کہاتھا۔ ایک طرف وزیراعظم کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ کیسے وزیراعظم کے منصب پرفائز رہ سکتا ہے عمران خان نے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ وہ خوشی منائیں کارکنوں کی کوشش کے بعد اتنا بڑا فیصلہ آیا ہے ججز نے قطری خط مسترد کردیا حدیبیہ پیپرزمل کاکیس بھی کھلے گا عوام اگر سڑکوں پر نہ نکلتی تو کبھی یہ کام نہ ہوتا ہمیں اقتدار میں آنیوالے لوگوں کااحتساب چاہیے وزیراعظم کی اور تلاشی لی جائے گی وزیراعظم کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جدوجہد نہ کرتے تو یہ نہ ہوتا انہوںنے کہاکہ ہمیں سپریم کورٹ کافیصلہ قبول ہے سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تاریخ بنائی دوججز نے جو فیصلہ دیا ہے ہمیں زیادہ سے توقع تھیں اب یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے نیچے ہوگی نیب کی کارکردگی تو صفر ہے اور وہ نوازشریف کے سامنے گھٹنے ٹیک بیٹھی ہے نوازشریف اب کوشش کریں گے کہ یہ ادارے اب کام نہ کریں اگروہ استعفیٰ نہیں دینگے تو ان کی توہین ہوگی جس طرح عزیر بلوچ کی تحقیقات ہورہی ہیں اسی طرح نوازشریف سے پوچھا جائے گا تو ان کی کیا عزت رہ جائےگی ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ مسلم لیگ ن کس چیز کی مٹھائیاں بانٹ رہی ہے دوججز نے کہہ دیا کہ یہ جھوٹا ہے جبکہ تین ججز نے کہاکہ قطری خط کو تسلیم نہیں کرتے جھوٹ بولنے کی خوشی منارہے ہیں انہوں نے کہاکہ کارکن ساٹھ دن کاانتظار کریں اورخوشیاں منائیں۔ دریں اثناء تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کل پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرلیا۔اس بات کا فیصلہ پی ٹی آئی کے اجلاس میں کیا گیا ہے جس کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پارلیمنٹ جائیں گے اور کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔اطلاعات ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں پاناما کیس کے معاملے پر بات کریں گے۔واضح رہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سے ن لیگ اپنی اور فریق جماعتیں پی ٹی آئی، جماعت اسلامی و عوامی مسلم لیگ اسے اپنی فتح قرار دے رہی ہیں۔فیصلے کے بعد عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کے پاس وزیراعظم رہنے کا کیا جواز رہ گیا، یہ ایسے ہی ہے جیسے عزیر بلوچ پر جے آئی ٹی بنائی جائے اس لیے وہ فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ فیصلے کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ نواز شریف کو کلین چٹ نہیں ملی، وہ استعفیٰ دیں۔

Scroll To Top