وزیراعظم کی اخلاقی حیثیت پر سوالات اٹھ گے ؟

عدالتِ عظمی نے پاناما لیکس کے مقدمہ میں فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے مذکورہ فیصلہ عمران خان، شیخ رشید، سراج الحق اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ ان درخواستوں پر دیا جن میں وزیراعظم سمیت چھ افراد کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں سے دو فاضل جج صاحبان نے میاںنوازشریف کی بطور وزیراعظم رہنے پر اعتراض اٹھا یا جبکہ تین ججز نے اس اہم مقدمہ میں مذید تحقیقات کی تجویز دی ۔فاضل بینچ کا 547 صفحات پر مشتمل فیصلہ اکثریتی فیصلہ ہے اور بینچ کے سربراہ سمیت دو ججوں نے اس میں بھرپور اندازمیں اختلافی نوٹ تحریر کیا۔ بلاشبہ سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان نے جو اعتراضات اٹھائے ہیں ان کی تاریخی اہمیت ہے جو آنے والے دنوں میں واضح ہوکر سامنے آسکتی ہے۔
جناب جسٹس اعجاز افضل ، جناب جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن نے وزیراعظم کے خاندان کی لندن میں جائیداد، دبئی میں گلف سٹیل مل اور سعودی عرب اور قطر بھیجے گئے سرمائے سے متعلق تحقیقات کرنے کا حکم دیا جبکہ جسٹس آصف سعید اور جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے اس ضمن میں پیش گئے ثبوت اور بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔
فاضل جج صاحبان کی جانب سے دیے گے اختلافی نوٹ کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر میں قوم سے جھوٹ بولا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اسی اختلافی نوٹ میں الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم کو فوری طور پر نااہل قرار دے کر ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کو ڈی نوٹیفائی کرنے کو کہا گیا ۔ججوں کی اکثریت کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی ٹیم کی سربراہی وفاقی تحقیقاتی ادارے کا ایڈیشنل ڈائریکٹر رینک کا افسر کرے جبکہ اس ٹیم میں قومی احتساب بیورو، سکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے علاوہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے دو تجربہ کار افسران شامل ہوں گے۔
دنیا کے ہر مہذب ملک میں سیاست اور اخلاقیات کے باہمی تعلق کونظر انداز نہیں کیا جاتا۔اس تناظر میں سپریم کورٹ کا پانامہ لیکس کا فیصلہ وزیراعظم کو کسی طور پر ان کے عہدے پر رہنے کا جواز دیتا نظر نہیں آتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں متعلقہ اداروں کے سربراہان کو ایک ہفتے کے اندر اندر ٹیم کے لیے اپنے نمائندوں کے نام دینے کا حکم دیا ہے۔فیصلے کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرے گی اور اس عرصے میں ہر دو ہفتوں کے بعد پیش رفت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی ۔
عدالت عظمی نے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو حکم دیا کہ وہ اس تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں اور جب ضرورت پڑے تو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔سپریم کورٹ کے مطابق ٹیم اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی جس کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس اس رپورٹ کی روشنی میں الگ بینچ تشکیل دیں گے جو وزیر اعظم کے خلاف شواہد ہونے کی صورت میں ان کی نااہلی کے معاملے کا بھی جائزہ لے سکے گا۔فیصلہ کی خاص بات یہ کہ
اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے عدالت عظمی کے دو جج صاحبان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بد دیانتی اور خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں وزارت عظمی کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے مالی معاملات اور لندن کی جائیداد کے بارے میں اس عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔دونوں جج صاحبان نے الگ الگ فیصلوں میں اسی بنا پر نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا۔
(ڈیک) ہر باضمیر پاکستانی اس پر حیرت زدہ ہے کہ آخر حکمران جماعت کس بنا پر پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مٹھائی تقسیم کررہی۔ تسلیم کہ پانچ رکنی بینچ میں سے محض دو نے وزیراعظم کو نااہل قراد دیا مگر اہم یہ کہ کسی بھی فاضل جج نے حکمران خاندان کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کو درست قرار نہیں دیا۔(ڈیک) مسلم لیگ ن کے لیے تشویش کا مقام ہے کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے ۔اس سے قبل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہی بنتی رہی ہے۔
بعض حلقوں کے مطابق اس سارے عمل کا کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے ۔ پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد عمران خان پوری قوت سے اس عالمی سیکنڈل کی تحقیق کا مطالبہ لے کر میدان میں آئے اور بالاآخر بڑی حد تک کامیاب رہے۔ سپریم کورٹ نے 60 روز کے اندار جی آئی ٹی کو تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔سول وملڑی اداروں کا اس اہم تحقیق کا حصہ بن جانے سے ایسی امید کم ہے کہ کوئی کمی رہ جائے۔ اس ضمن میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ دو مہینے اور پانامہ لیکس کا معاملہ پوری قوت سے سیاست اور میڈیا کے محاذ پر گرم رہے گا جس میں وزیراعظم اور ان کا خاندان موضوع بحث رہے گا۔

Scroll To Top