اپنے ہی ہاتھ اپنا ہی خنجر اور اپنا ہی سینہ ! 26-02-2011

kal-ki-baat


پہلے سی آئی اے نے طالبائزیشن کا خوف پیدا کرنے کے لئے کروڑوں ڈالر پاکستان کی ” سول سوسائٹی“ میں پھیلائے۔ اس کے بعد اس کے ایجنٹوں کی ایک فوج ظفر موج چپکے سے یہاں آوارد ہوئی اور اس نے اپنے ” طالبان“ کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے ” بھرتیاں“ کیں جو بظاہر ” اسلام “ کے شیدائی اور ” جنت کے متلاشی “ نظرآئیں مگر بباطن آگ خون اور قتل وغارت کا گھناﺅنا کھیل اس مقصد کے لئے کھیلیں کہ ہمارا ملک مختلف مذہبی فرقوں کی جنگ کا میدان بن جائے۔
اس سارے کھیل میں نشانہ ہماری ” آئی ایس آئی“ کو بھی بنایا گیا۔ یہ تاثر پھیلانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا گیا کہ آئی ایس آئی ہی ”مذہبی انتہا پسندوں“ اور ” اسلامی جنونیوں اور عسکریت پسندوں“ کی پشت پناہی کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔امریکہ اپنے اس مشن میں تو 2008ءمیں کامیاب رہا کہ جنرل پرویز مشرف کی جانشیں حکومت ایسے افراد پر مشتمل قائم ہوئی جن کی ” اسلام سے بے گانگی“ اور ” واشنگٹن سے وفاداری “ پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا۔ مگراپنی اس کوشش میں اسے شروع میں ہی منہ کی کھانی پڑی کہ آئی ایس آئی کا کنٹرول رحمن ملک صاحب کے ہاتھوں میں آجائے۔ اگر وہ امریکی منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو آج ریمنڈ ڈیوس کوٹ لکھپت جیل کی بجائے آئی ایس آئی کے کسی دفتر میں بیٹھا اپنے ملک گیر آپریشنز کی کمان کررہا ہوتا۔ یہ ریمنڈ ڈیوس محض ایک نام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں موجود ہر امریکی کسی نہ کسی ایسے ایجنڈے پر کام کررہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایک ناقابل اصلاح خطرناک اور ناکام (ungovernable) ریاست ثابت کرنا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی اور بقاءکے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا تعین ازسر نو کرے۔ یہ درست ہے کہ ہم امریکہ کی دشمنی مول لینے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ ایسی دوستی ہمارے لئے تباہ کن ہوگی جس میں ہمیں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا ہی خنجر اپنے ہی سینے میں اتارنا پڑے۔

Scroll To Top