امت کے تصور نے ہی دنیا کی تاریخ تبدیل کی

aaj-ki-baat-new-21-april
گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں لیبیا کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے ایک سیکولر دانشور جناب نصر ت جاوید نے بڑے تمسخرانہ اور تضحیک آمیز انداز میں کہا۔ ” امہ !امہ !امہ !!!امہ امہ کا شور سن کر میرے کان پک گئے ہیں۔ کہاں ہے امہ ؟ کون سی امہ ؟ “
اس بات پر مجھے کچھ زیادہ افسوس نہیں ہوا کیوں کہ وطن عزیز میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے نام تو مسلمانوں جیسے ہیں مگر جن کے کان کلام الٰہی سن کر بھی پکنے لگتے ہیں(نعوذ باللہ)میرا مقصد یہاں کسی کی دل آزاری نہیں لیکن ہمارے سیکولر دانشوروں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس ملک کی غالب آبادی ایسے ” تنگ نظر “ اور ” کم علم “ لوگوں پر مشتمل ہے جو خود کو اس ” امہ “ سے منسلک سمجھتے ہیں جو اکثر ” روشن خیال “ ناقدین کے تمسخر کا نشانہ بنتی ہے۔ میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ملک کی کم ازکم پچاسی فیصد آبادی اپنے آپ کو ہادی ءبرحق پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی امت سمجھتی ہے۔ امہ یا امت کا یہ آفاقی تصور پوری توانائیوں اور جولانیوں کے ساتھ آنحضرت کے آخری خطبے میں گونجا تھا جس میں آپ نے فرمایا تھا :
” ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ دین کے اس رشتے کے بعد عربی کو عجمی پر اورگورے کو کالے پر کوئی فضلیت حاصل نہیں۔ فضلیت کا معیار میری امت میں تقویٰ ہوگا۔“
مجھے اپنی تنگ نظری اور کم عملی کا اعتراف ہے۔ ہم سب جو اپنے آپ کو امت محمدی کا حصہ سمجھتے ہیں تنگ نظر اور کم علم سہی لیکن روشن خیال اور کشادہ نظر کہلانے کے لئے ہم ہادی ءبرحق کی ہدایت کو کیسے مسترد کریں ؟ امہ یا امت کا تصور ہم نے خود ایجاد نہیں کیا۔ یہ ہمیں قرآن حکیم کی تعلیمات اور آنحضرت کی ہدایات کے ذریعے ملا ہے۔ اور یہ وہ تصور ہے جس نے نسلیت ` لسانیت اور علاقائیت پر مبنی قومیت کے تمام تصورات کو مٹا ڈالنے کا جذبہ ایسی آگ کی طرح ہمارے سینوں میں منتقل کیا تھا جو کبھی نہیں بجھتی۔ جو لوگ ” امہ “ کے تصورسے انکار کرتے ہیں وہ میری رائے میں یا تو آنحضرت کے پیغام کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر (نعوذ باللہ)اس پیغام کو ” داستان ماضی “ سے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔ یعنی ایک ایسی داستان جس کا دور حاضر کے زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ دونوں صورتوں میں ” امہ “ کے تصور سے بندھے ہوئے لوگ ” تنگ نظری“ اور ” کم علمی “ کے طعنوں اور الزامات کے جواب میں ایک ہی نعرہ بلند کریں گے۔
” اسلام ہمارا دیس ہے ` ہم مصطفویٰ ہیں“
اگر اسلام صرف دنیائے عرب کے لئے آیا ہوتا تو آنحضرت اپنی زمینی حیات کا آخری فیصلہ ایک ایسا لشکر ترتیب دے کر کیوں کرتے جس کے سپرد حجاز کی حدود سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل جانے کا مشن تھا۔؟ یہ ایک علامتی فیصلہ تھا جس کے ذریعے آنحضرت نے اپنی امت کے لئے منزلوں کا تعین کردیا تھا۔ اس علامتی فیصلے کا ایک علامتی پہلو یہ بھی تھا کہ اس لشکر کی سالاری آنحضرت نے ایک نوجوان غلام زادے حضرت اسامہ بن زید ؓ کے سپرد کی۔ان دونوں علامتی فیصلوں کے نتیجے میں ہی مسلمان ایک طرف نیل کے ساحل تک پہنچے اور اس سے بھی آگے طرابلس تک گئے۔ اور دوسری طرف کا شغر ان کی منزل بنا۔
جب ہم علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک ایک ہونے کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت پیغام مصطفویٰ کو لبیک کہتے ہیں۔
(یہ کالم25فروری2011ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top