وزیراعظم ،کامران مادھوری اور اجمل پہاڑی کی صف میں آ گئے ، افتخار محمد چوہدری

  • کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزیراعظم کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونا پڑا ہو ، جے آئی ٹی میں نامی گرامی مجرم کھڑے ہوتے ہیں

Image result for ‫افتخار محمد چوہدری‬‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پانچوں ججز نے ثابت کردیا کہ وزیراعظم ایماندار نہیں اور دو ججوں کی جانب سے تو نااہلی کا سرٹیفکیٹ مل گیا ہے جب کہ بقیہ تین کے ریمارکس بھی وزیراعظم کے خلاف جاتے ہیں۔ پاناما کیس کے فیصلے پرسابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اے آر وائی نیوز کے معروف اینکر اور ٹاک شو پاور پلے کے میزبان ارشد شریف کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئی کہی۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے نکات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانچ میں سے دو ججز نے وزیراعظم کو نا اہل قرار دے دیا جب کہ بقیہ تین نے بھی مزید تحقیقات کا کہا ہے اس طرح دیکھا جائے تو نواز شریف حکمرانی کرنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیںسابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ میاں شریف کے معاہدے کی فراہم کردہ کاپی بوگس ہے اسی طرح حسین نوازکے انٹرویوز کو بھی متنازع قرار دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم ثبوت فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہے ہیںافتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ مقدمے کا بنیادی سوال لندن فلیٹ کی خریداری اور ملکیت کے حوالے سے وزیراعظم ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے اور خود وزیراعظم کے اہل خانہ کے بیانات میں ابہام پایا جاتا ہے۔افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ معزز عدالت نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ نوازشریف نے تقریرمیں قطری خط، سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا اور بعد ازاں یہی چیزیں بہ طور ثبوت پیش کیے گئے اس طرح نواز شریف نے عوام سے جھوٹ بولا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاناما کیس کے فیصل ےمیں لکھا ہےکہ انہوں نے غلط بیانی کی ہے اور قوم سے جھوٹ بولا گیا ہے جس پر تحقیقات جے آئی ٹی میں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ تفصیلی تحقیقات سامنے اآسکیں۔افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ان معنوں میں دیکھا جائے تو معززعدالت کا فیصلہ وزیراعظم کے خلاف ہے لیکن فیصلے کے بعد حکمران جماعت مٹھائی کس بات پربانٹ رہی ہے اس پر مجھے نہایت حیرانگی ہو رہی ہے آئی ٹی کے آزادانہ طور پر کام کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے بطور ملزم کھڑے ہوں گے اور اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزیراعظم کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونا پڑا ہو۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں نامی گرامی مجرم کھڑے ہوتے ہیں جیسے اجمل پہاڑی اور کامران مادھوری وغیرہ جنہوں نے سو سو قتل کیے ہوتے ہیں اس لیے وزیراعظم کو سوچنا چاہیے کہ اب وہ کن مجرموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ نیب چیئرمین پر تو عدالت کو اعتماد ہی نہیں اس لیے جے آئی ٹی میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹرلیول کا افسربھی شامل ہوگا اور ساتھ ہی ایم آئی اور آئی ایس آئی سمیت اہم اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہوں گے۔

Scroll To Top