وزیراعظم شامل ِ تفتیش کر لئے گئے۔۔۔۔

kuch-khabrian-new-copy
مسلم لیگ (ن)کے جیالے اور غیرتمند لیڈر اس بات پر بھی جشن منارہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے پانچوں کے پانچوں ججوں نے وزیراعظم کے پورے دفاع اور ان کے وکلاءکے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ایک جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو وزیراعظم اور ان کے خاندان کے مالی معاملات پر اُن TORsکی روشنی میں تحقیقات کرے گی جو سپریم کورٹ نے ہی طے کرنے ہیں۔۔۔
وزیراعظم فوری نا اہلی سے بال بال بچے ہیں ۔۔۔ جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے یہ اختلافی نوٹ لکھ کر یقینا ایک روشن باب رقم کیا ہے کہ وزیراعظم مزید رعایت اور تحقیقات کے مستحق نہیں ۔۔۔ انہوں نے صادق اور امین ہونے کا مقام کھو دیا ہے اور وہ حکومت کرنے کے اہل نہیں رہے۔۔۔ باقی تین ججوں نے فوری نا اہلی پر اتفاق نہیں کیا اور فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی منظوری سے ایک جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے طے کردہ TORsکے تحت وزیراعظم اور ان کے بچوں کے مالی معاملات کی تحقیقات کرے گی۔۔۔ اور وزیراعظم صاحب اور ان کے بچوں کو ” پیسوں کے سفر “ (Money Trail)کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب اس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر دینا ہوگا۔۔۔
وزیراعظم کا بنیادی ” دفاع“ یہ تھا کہ ان کا نام پاناما لیکس میں موجود نہیں اس لئے وہ اس مقدمے کی زد میں آہی نہیں سکتے۔۔۔ وہ اس مقدمے کی زد میں آگئے ہیں۔ وہ شامل ِ تفتیش کرلے گئے ہیں۔۔۔انہیں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔۔۔
یہ درست ہے کہ دو درویش ساتھ چھوڑ گئے مگر پھر بھی وزیراعظم اس مقدمے سے داغ داغ ہو کر نکلے ہیں۔۔۔
عمران خان اور آصف علی زرداری نے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرکے اُن پر احسانِ عظیم کیا ہے۔۔۔ اس طرح وہ مزید رسوائی سے بچ سکتے ہیں۔۔۔
اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جے آئی ٹی کے ارکان کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں گے تو یہ ان کی بہت بڑی خوش فہمی ہے۔۔۔ جو جامہ تلاشی اب ہوگی وہ بڑی سنگدلانہ ہوگی۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار کا فیصلہ ہی وہ فیصلہ ہے جو اس قوم کو ایک سنگین بحران سے بچا سکتا ہے۔۔۔

Scroll To Top