کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائیگا، پاکستان

  • بھارتی رد عمل اور اشتعال انگیز بیانات مایوس کن ہیں ،پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری میں اسکے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں،نفیس زکریا کی بریفنگ

کلھبوشن یادیو بھارتی جاسوس ایجنسی کیلئے کام کرتا تھا  دہشتگردی اور ..

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے طلباءکے خلاف باضابطہ جنگ شروع کرنے کی کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی ,بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائےگا ¾عدالتی فیصلے پر بھارتی رد عمل اور اشتعال انگیز بیانات انتہائی مایوس کن اور پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت ہیں ¾پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتہ بھارتی وزیر داخلہ کے اس دعوے کہ بھارتی حکومت ایک سال کے اندر صورتحال پر قابو پائے گی،کے بعد بھارتی قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی اداروں اور طلباءکے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور بھارتی فورسز نے خواتین کے کالجوں سمیت ایک درجن سے زائد تعلیمی ادروں پر حملے کئے جن میں سینکڑوں طلباءاور طالبات زخمی ہوئیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی مظالم ،قتل عام اور پیلٹ گنز کا استعمال کشمیریوں کو ان کے جائز حق خودارادیت کیلئے جدوجہد سے روک نہیں سکتیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات پر بامعنی مذاکرات کیلئے تیار ہے۔کلبھوش یادیو کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کلبوشن کے عدالتی فیصلے پر بھارتی رد عمل اور اشتعال انگیز بیانات پر مایوس کن ہیں۔بھارتی نیول کمانڈر کلبوشن پاکستان میں تخریبی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث پایا اور اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا ہے۔اسے ملکی قانوں کے مطابق سزا دی گئی ہے۔بھارت کے شرانگیز بیانات عالمی اقدار کے خلاف اور پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواہاں ہے۔امریکا سمیت تمام دنیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے پناہ جانی اور مالی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں ملکی سیکورٹی اور اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔داعش کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں داعش کی کوئی منظم موجودگی نہیں جبکہ امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے افغانستان میں داعش کی موجودگی کی تصدیق کی ہے اور حال ہی میں ماسکو کانفرنس کے شرکاءنے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ماسکو کانفرنس میں افغانستان بالخصوص خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے معاملات زیر بحث لائے گئے۔کانفرنس میں پاکستان سمیت گیارہ ملکوں نے شرکت کی۔کرل(ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ انہیں روزگار کا جھانسا دیکر پھنسایا گیا ہے۔ان کی گمشدگی میں دشمن ایجنسیوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Scroll To Top