طوفان ہمیشہ سناٹے میں ہی آیا کرتا ہے 24-02-2011

kal-ki-baat
آج کل محفلوں میں اور مذاکروں میں یہ دلچسپ بحث سننے کو ملتی ہے کہ کیا پاکستان میں بھی مصر اور تیونس جیسا انقلاب آسکتا ہے ` یا کیا یہاں بھی عوامی غم و غصہ کا آتش فشاں اسی طرح پھٹ سکتا ہے جس طرح سے لیبیا سے لے کر یمن اور بحرین تک پھٹا ہے۔
ہمارے حکمران اس سوال کا جواب پوری شدت سے سرہلا کر نفی میں دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں چونکہ جمہوریت ہے ` اظہار رائے کی آزادی ہے ` میڈیا پر کوئی پابندی نہیں اور غم و غصے کا اظہار قوانین کے دائرے میں رہ کر ہوجایا کرتا ہے `اس لئے یہاں مصر ` تیونس ` بحرین ` یمن اور لیبیا جیسی صورتحال پیدا نہیں ہوسکتی۔
میں اس نقطہ نظر کو بھرپور طریقے سے مسترد کرتا ہوں۔یہاں بھی عوامی غم وغصے کے عوامل وہی ہیں جو متذکرہ ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یعنی غیروں کی غلامی کا احساس ` حکمران طبقے کی عیاشیاں ` غربت اور محرومی کا طوفان ` اور تقریباً ربع صدی سے ایوان ہائے اقتدار میں چند مخصوص خاندانوں کی چہل پہل میں اپنی یہ بات مثالیں دے کر واضح کرنا چاہوں گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اہل پاکستان کانوں اور آنکھوں کا رشتہ میاں نوازشریف سے تین دہائیاں پرانا ہے۔؟ اس عرصے میں تقریباً آدھا وقت انہوں نے اقتدار میں رہ کر گزارا ہے۔ اور اس دوران ان کی مالی حیثیت میں کم ازکم پچاس گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا کہ ہمارے کانوں سے مسٹر ٹین پرسنٹ کی صدائیں ٹکرا رہی ہیں۔اس عرصے کے دوران جناب الطاف حسین کی آواز بھی لندن سے روانہ ہو کر ہمارے کانوں کے پردوں کو جھنجوڑتی رہی ہے۔ چوہدری برادران بھی ان دہائیوں کے دوران ایوان ہائے اقتدار میں اپنی آمد و رفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لال ٹوپیوں والے بھی کبھی سٹیج پر نمودار ہوجاتے ہیں اور کبھی پردے کے پیچھے جا چھپتے ہیں۔ کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں ؟ دنیا میں جہاں جہاں بھی جمہوریت ہے وہاں کتنے چہرے آئے اور کتنے چلے گئے ` کوئی شمار نہیں ۔ مگر پاکستان کی سیاست پر چند مخصوص خاندانوں نے اپنے آہنی پنجے گاڑ رکھے ہیں ` اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہاں جمہوریت ہے۔
جب بھی انقلاب کا نعرہ فضاﺅں میں بلند ہوتاہے اس نعرے کے پیچھے عوام کی وہ نفرت کار فرما ہوتی ہے جو وہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض خاندانوں کے خلاف محسوس کرتے ہیں۔ یہی نفرت اکثر فوجی حکمرانوں کو بھی نجات دہندہ قرار دے دیا کرتی ہے۔
پاکستان کے مقدر میں چند جانے پہچانے چہروں اور خاندانوں کی حکومت نہیں لکھی ہوئی۔ یہاں جلی ہوئی راکھ کے اندر ایسی چنگاریاں چھپی ہوئی ہیں جنہیں بھڑکنے کے لئے صرف ہوا کے ایک جھونکے کی ضرورت ہے۔
جب طوفان اٹھتا ہے تو ان لوگوں کو بھی اپنے ساتھ اڑالے جاتا ہے جو ان پیشگوئیوں کے ذریعے اپنے آپ کو تسلیاں دینے میں مصروف ہوتے ہیں کہ اس سناٹے میں طوفان کیسے آئے گا۔
تو اللہ کے بندو ۔۔۔ طوفان ہمیشہ سناٹے میں ہی آیا کرتاہے۔ اگر کوئی شخص دو ماہ قبل یہ پیشگوئی کرتا کہ قاہرہ تیوس اور طرابلس میں تخت و تاج اچھلنے والے ہیں تو ہم سب اسے پاگل کہتے۔۔۔

Scroll To Top