آنے والے کل کا پاکستان ایک قوم تحریک کا گیارہ نکاتی ایجنڈا

aaj-ki-baat-new-21-april
ایک قوم تحریک یعنی ون نیشن موومنٹ (او این ایم)کے بارے میں میرے قلم سے بہت کچھ نکلا ہے اور آپ تک پہنچا ہے۔اس ضمن میں مضامین کا ایک طویل سلسلہ بھی جاری ہے جو آپ کی نظروں سے باقاعدگی کے ساتھ گزررہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس تاریخی موقع پر اس قسم کی تحریک کو باقاعدہ طور پر شروع کرنا اور پھیلانا ایک قومی فریضہ ہے جس کی ادائیگی سیاسی وابستگیوں سے بے نیاز ہو کر ہر وہ شخص کرسکتا ہے جو کلمہ گو ہے اور جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت برحق ہے ` رسول اکرم ﷺ کا پیغام برحق ہے اور قرآن حکیم ہی ہمارا حتمی آئین ہے۔
میں عمر کے جس حصے میں ہوں اس میں میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہوسکتے۔ اگر میرے سیاسی عزائم ہوتے تو برادرم عمران خان کے پہلو میں کھڑا نظر آنا جس قدرآسان میرے لئے تھا شاید اُن لوگوں کے لئے نہ ہوسکتا جو 2010ءتک تحریک انصاف کے بانی کو ایک ” سعی ءلاحاصل“ کے پیچھے وقت برباد کرنے والے ” مہم جو“ سے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔
میرا مقصد اس سوچ کو فرو غ دینا ہے جس کے لئے یہ ملک قائم ہوا تھا۔ کیا اس مقصد کی تکمیل میں آپ میراساتھ دیں گے؟
اس سوال کا جواب ضرور دیں۔ میرا ای میل ایڈریس ہے۔
aghulam95@yahoo.com
آپ اِس نمبر پر بھی اپنا جواب بھیج سکتے ہیں۔ 0346-8552409۔یہ جواب ایس ایم ایس کے ذریعے بھی بھیج سکتے ہیں اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی۔
ایک حقیقت پسندانہ جواب تک پہنچنے میں آپ کی مدد کرنے کے لئے میں ذیل میں ” ایک قوم تحریک “ کا گیار ہ نکاتی ایجنڈا پیش کررہا ہوں جو اس کے حتمی منشور کی بنیاد بنے گا۔
٭ اللہ سبحان تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرانا۔
٭ اللہ سبحان تعالیٰ کی منتخب زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دلوانا۔
٭ گناہ و ثواب اور جرم و سزا کے فرق کو قرآنی احکامات کی روشنی میں واضح کرانا۔ گناہ و ثواب کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے اور جرم و سزا کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ ریاست سے بھی ہے۔
٭ قرآن و سنت کی روشنی میں جرم و سزا کے متعلق اسلامی قوانین کو اخلاقی ` معاشرتی اور معاشی رویوں کی بنیاد بنوانا۔
٭ معاشرتی انصاف قائم کرنے کے لئے اس بات کا تعین کرناکہ ایک فرد یا ایک کنبے کی زیادہ سے زیادہ آمدنی کتنی اور کم سے کم آمدنی کتنی ہونی چاہئے۔ اگر دونوں آمدنیوں میں فرق ” ایک اور ایک سو “ کے تناسب سے بھی بڑھ جائے تو کیا سماجی انصاف ممکن ہوگا؟۔ اس سوال کے اخلاقی معاشی اور معاشرتی طور پر درست جواب کو اقتصادی منصوبہ بندی اور ٹیکسیشن کے نظام کی بنیاد بنوانا۔
٭ دوست اور دشمن کی تمیز قائم کرانا اور اس تمیز کی بنیاد پر ایک موثر اور حقیقت پسندانہ خارجہ اور دفاعی حکمت عملی اختیار کرانا۔
٭ یکساں نصاب پر مبنی نظام تعلیم قائم کرانااور اس بات کو یقینی بنوانا کہ ملک کے ہر بچے کو ایک ہی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کے یکساںمواقع حاصل ہوں۔
٭صحت عامہ کو ریاست کا لازمی فرض تسلیم کرانا اور موثر علاج کی سہولتوں کی دستیابی کو غریب آدمی کے لئے آسان اور یقینی بنوانا۔
٭ ریاست ِ مدینہ کے ماڈل کو سامنے رکھ کر پاکستان کو ایک ایسی اسلامی فلاحی مملکت بنوانا جس کے امیر یا صدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہو۔
٭ قانون سازی اور احتساب کی ذمہ داریوں کی بہ احسن تکمیل کے لئے ایک موثر اور با اختیار پارلیمنٹ قائم کرانا جس کا انتظامی معاملات سے کوئی تعلق نہ ہو۔
٭ انتظامی معاملات کی بحسن و خوبی تکمیل کے لئے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرانا اور پاکستان کو کم ازکم پچاس خودمختار مقامی حکومتوں کا ایک ایسا وفاق بنوانا جس میں عام آدمی کوانصاف اس کی منتخب کردہ با اختیار مقامی حکومت مہیا کرے۔ دوسرے معنوں میں بیس کروڑ کی آبادی پچاس خود مختار مقامی حکومتوں کے ذریعے خود ہی اپنے آپ پر حکومت کرے گی۔ اوسطاً ہر انتظامی صوبہ یا یونٹ چالیس لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہوگا۔۔۔

Scroll To Top