درویش چار ہی کافی ہیں

kuch-khabrian-new-copy


میں وہ ”وقت ِ فجر“ کبھی نہیں بھول پاو¿ں گا جب ٹیلیفون کی گھنٹی بجنے کی آواز پر میں نیند سے بیدار ہوا، رسیور اٹھایا اور بولا۔۔”ہیلو۔۔“
جواب میں ایک غیر مانوس اور بھاری سی آواز میں کسی نے کہا۔”آپ غلام اکبر بول رہے ہیں ناں۔؟“
”جی۔۔“ میں نے جواب دیا۔”آپ کون ؟“
”آپ کا ایک معترف اور مداح“ اس نے جواب دیا۔”آپ کو صرف یہ خوشخبری دینے کے لئے فون کیا ہے کہ آپ کا ایک خواب آج پورا ہو گیا ہے۔ ہم نے غوری میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔“
میں ایکدم اچھل پڑا۔ یہ یقینا میرے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ ”آپ کون؟“
”آپ کا ایک دوست اور مداح۔۔“ جواب ملا۔
”آپ کیسے جانتے ہیں ؟“ میں نے پوچھا۔۔
”جیسے اپنے ہاتھ کی لکیریں۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ 21مئی1998ءکو یہ آواز مجھے دوبارہ فون پر سنائی دی۔ ”السلام و علیکم۔ آپ مجھ سے مت پو چھئے گا کہ میں کون ہوں۔ صرف یہ خبر دینے کے لئے فون کیا ہے کہ ٹھیک ایک ہفتہ بعد جمعرات کے ہی روز ہم ایٹمی دھماکہ کریں گے۔ آپ یہ خبر شائع مت کیجئے گا۔ صرف اس لئے بتا رہا ہوں کہ آپ کو اِس خوشخبری کا شدت سے انتظار ہے۔“ اس کے بعد فون منقطع ہو گیا۔ ٹھیک ایک ہفتہ بعد پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا۔
گذشتہ روز مجھے ایک عجیب سا پیغام ملا۔۔
”آپ چار ایسے درویشوں کی داستانِ عزم لکھنے کے لئے تیار رہیں جو آپ کے پاکستان کی نئی تاریخ لکھنے والے ہیں۔“
”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔ اگر آپ کا اشارہ پاناما کیس کی طرف ہے تو اس کے فیصلے کے آثار نظر نہیں آرہے۔ اور عدالتی بینچ چار نہیں پانچ ججوں پر مشتمل ہے۔“ میں نے کہا۔
” آپ کو معلوم ہے“ کہ قصہ چار درویشوں کا ہی مشہور ہے۔ آپ کی کہانی کے درویش بھی چار ہی ہوں گے۔جواب ملا۔
” میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔“ میں نے کہا
” اگر چار گول ہو جائیں تو پانچویں کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔“ جواب ملا۔ اس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔
یقین کریں میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔ آپ کی سمجھ میں کچھ آیا۔؟

Scroll To Top