نَصْرٌ مِّن اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ

  • انتظار ختم
  • 20اپریل2017: پانامہ لیکس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا
    تمام فریقوں کو اپنی اپنی فتح کا یقین ہے لیکن حقیقی فتح عوام کی ہی ہو گی، مبصرین
    جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل لارجر بینچ نے کیس کی26 سماعتیں مکمل ہونے کے بعد 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو تقریبا 2 ماہ بعد سنایا جا رہا ہے
  • سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں فیصلے سے وزیر اعظم نواز شریف آرٹیکل 62/63 کی زد میں آ نے کے بعد نااہل قرار پا سکتے ہیں، حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھل سکتا ہے اور چیئرمین نیب بھی متاثر ہو سکتے ہیں

Image result for panama case

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کا فیصلہ 20 اپریل کو سنایا جائے گا، اس بارے میں عدالت عظمٰی نے ایک ضمنی ”کاز لسٹ“ یعنی مقدمہ کی فہرست جاری کر دی۔”کاز لسٹ“ کے مطابق یہ فیصلہ جمعرات کو دن دو بجے سنایا جائے گا۔عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے پر 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دائر درخواستوں پر سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا، لیکن دسمبر میں اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی مدت ملازمت ختم ہونے پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ ، بینچ میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں، لارجر بینچ نے 26 سماعتیں مکمل ہونے کے بعد 23 فروری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب تقریبا 2 ماہ بعد سنایا جائے گا۔پانچ رکنی بینچ کی طرف سے کہا گیا کہ پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں میں لگ بھگ 26000 دستاویزات عدالت میں جمع کروائی گئیں لیکن 99 فیصد سے زائد متعلقہ نہیں ہیں یا ’ردی کی ٹوکری کے لیے ہیں۔‘’آف شور‘ کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک اثاثے اور جائیدادیں بنانے سے متعلق پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی معلومات گزشتہ سال منظر عام پر آئی تھیں۔پاناما پیپرز وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کے نام سامنے آنے کے بعد پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں خاص طور تحریک انصاف نے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس بارے میں عدالت عظمٰی میں درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔تاہم حکمران جماعت کا موقف رہا ہے کہ وزیراعظم کا پاناما پیپرز میں نام نہیں ہے اور ا±ن کے بچے قانون کے مطابق بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں۔پاناما کیس میں جماعت اسلامی کےامیر سراج الحق ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور شیخ رشید بھی فریقین میں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پانامہ کیس کا فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کے لئے سردردی بن سکتاہے کیونکہ آرٹیکل 62/63 کے تناظر میں وہ نااہل قرار پا سکتے ہیں۔ دوسری طرف حدیبیہ پیپرملز کیس کی سماعت دوبارہ سے ہو سکتی ہے کہ جس کے نتیجے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کسی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ جبکہ چیئرمین نیب کا بھی فیصلے سے متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ ادھر پانامہ کیس کے مدعا علیہان پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان ، جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پانامہ کا فیصلہ عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہوگا اور ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔

Scroll To Top