آنکھ مچولی کا کھیل 22-02-2011

kal-ki-baat
دس نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے میاں نوازشریف نے جو ڈیڈ لائن مقرر کی تھی وہ سر پر آن پہنچی ہے ` اور خبر یہ ہے کہ وزیراعظم گیلانی اس ڈیڈ لائن میں توسیع چاہتے ہیں۔ صدر زرداری اپنے ” شوق جہاں گردی“ کی تسکین کے لئے جاپان جا پہنچے ہیں۔ شاید اسی لئے مسلم لیگ (ن)کے فیصلہ کن اجلاس کا انعقاد اب 25فروری کو ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں یا دونوں نے مل کر یہ کھیل قوم کے ساتھ کھیلنے کا وطیرہ اختیارکررکھا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے جو تقریر لیاری میں کی ہے وہ اگر ” بقائمی ہوش و حواس “ کی گئی ہے تو اس کا ایک ہی مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت نے پھر ” سندھ کارڈ“ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ورنہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا یہ اعلان کیوں کرتے کہ وہ ضرورت پڑنے پر بدمعاشی کرنے سے بھی باز نہیں آئیں گے۔؟ میرے لئے یہ بات ہضم ہونے والی نہیں کہ ڈاکٹر مرزا کوئی بھی بات صدر زرداری کی منشا اور ایماءکے بغیر کہتے ہوں گے۔ آپ کے ذہن میں یہ خیال ضرور ابھرتا ہوگا کہ آخر کھیل کیا کھیلا جارہا ہے۔ اور وطن عزیز کب تک اقتدار کی جنگ کا میدان بنا رہے گا ۔؟ ایک بات واضح ہوچکی ہے کہ اس جنگ میں جتنی بھی شخصیات اور جماعتیں حصہ لے رہی ہیں ان کاقومی ایجنڈا کوئی نہیں ` صرف اپنے اپنے مفادات کے حصول کا ایجنڈا ہے۔ کچھ رہنماﺅں کے ہاتھ” انقلاب “ کانعرہ لگ گیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس نعرے کی آڑ میں وہ اپنے اپنے عزائم بخوبی پورے کرسکیں گے۔ کسی کے بھی ذہن میںیہ حقیقت نہیں کہ آخری منظر نامہ بہرحال قدرت ہی لکھا کرتی ہے۔ اور قدرت کیسے قوم کو ان سفاک طالع آزماﺅں سے نجات دلائے گی اس کا فیصلہ ہونے میں شاید اب بہت زیادہ وقت نہ لگے۔

Scroll To Top