دیکھنا اب یہ ہے کہ” پسپائی کس نے اختیار کی ہے ؟ “

aaj-ki-baat-new-21-april15اپریل2017ءکو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے یہ نوید سنائی کہ ڈان نیوز گیٹ پر تحقیقاتی ٹیم کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا ہے اور دو تین دن میں رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کردی جائے گی۔۔۔
دو دن بعد آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور سے پوچھا گیا کہ اتفاق رائے کے بعد رپورٹ کب سامنے آرہی ہے تو موصوف نے جوابی سوال دا غ دیا۔” کیا اتفاق رائے ۔۔۔؟یہ معاملہ تحقیقات کا تھا ` اتفاق رائے کا نہیں ۔۔۔“
موصوف کو بتایا گیا کہ اتفاق رائے کی بات وفاقی وزیر داخلہ نے کی ہے۔۔۔ موصوف نے جواب دیا کہ پھر اُن سے ہی پوچھئے۔۔۔
ظاہر ہے کہ چوہدری نثار علی خان خاموش رہنے والے آدمی نہیں۔۔۔ انہوں نے فوراً وضاحت دے ڈالی کہ وہ اتفاق رائے کی بات پر قائم ہیں۔۔۔ اگر اتفاق رائے کا حصول درکار نہ ہوتا تو معاملہ پانچ ماہ تک نہ لٹکتا۔۔۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی نون لیگی وفاداریاں رکھنے والے ایک سابق جج نے قبول ہی اس شرط پر کی تھی کہ اتفاق رائے چاہیں گے۔۔۔ بقول چوہدری صاحب کے جج صاحب کا اصرار تھا کہ میں رپورٹ پر دستخط اسی صورت میں کروں گا کہ کمیٹی کے تمام اراکین کے درمیان اتفاق رائے ہوگا۔۔۔ مطلب اس بات کا یہ نکلتا ہے کہ رپورٹ تو پانچ ماہ پہلے ہی تیار ہو چکی تھی مگر آئی ایس آئی اور ایم آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان اپنی اختلافی آراءسے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں تھے۔۔۔ ظاہر ہے کہ یہ اختلافی آراءکمیٹی کے سربراہ کو پسند نہیں تھیں۔۔۔ ان کی تقرر ی ہی اس یقین دہانی کے ساتھ کی گئی تھی کہ وہ اختلافی آراءکو حتمی رپورٹ سے خارج کرائیں گے۔۔۔
اب سوال ذہنوں میں یہ کھڑا ہورہا ہے کہ واقعی کوئی اتفاق رائے ہوا ہے یا اختلافی آراءکے ساتھ رپورٹ سامنے آرہی ہے۔۔۔ اگر اتفاق رائے ہوا ہے تو اختلاف کس نے ختم کیا ہے۔۔۔ حکومت کے نامزد اراکین نے یا فوج سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ۔۔۔؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں چوہدری نثارعلی خان کا شکر گزار ہوناچاہئے کہ وہ قوم کو حقائق سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔۔۔ وہی تھے جنہوں نے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ چند دنوں میں قومی سلامتی کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کٹہرے میں لایاجائے گا ۔۔۔ وہی تھے جنہو ں نے اپنے اس موقف سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر چھوڑا کہ معاملہ ان کے ہاتھ سے ” اوپر“ جاچکا تھا۔۔۔ وہی تھے جنہوں نے اب بھی ایسا شوشہ چھوڑا ہے کہ میجر جنرل آصف غفور وہ کچھ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں جو انہوں نے کہا ہے۔۔۔
دیکھنا اب یہ ہے کہ پسپائی کس نے اختیار کی ہے ۔۔۔؟

Scroll To Top