پانامہ لیکس کا فیصلہ تاریخ مرتب کریگا !

zaheer-babar-logoبالا آخر عوام کا انتظار ختم ہوا اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ضمنی کاز لسٹ کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنایا جائے گا۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ پانامہ لیکس کو لے کر پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں بالا آخر سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی اور اس کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا گیا ۔اب سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری سپلیمنٹری کاز لسٹ کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو دوپہر دو بجے سنایا جائے گا۔اس سلسلے میں اہم یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اعلان کرچکے کہ پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی قبول کیا جائیگا۔ اس اہم مقدمہ کی سماعت کے آخری روز جسٹس آصف کھوسہ نے کہا تھا کہ فیصلے کا کوئی شارٹ آرڈر جاری نہیں ہوگا بلکہ تفصیلی فیصلہ ہی جاری کیا جائے گا۔جسٹس آصف کھوسہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کیس کا فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا اور 20 سال کے بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق تھا۔ جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکیس بھی دیے تھے کہ اگر 20 کروڑ لوگ ناخوش بھی ہوتے ہیں تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں، صرف قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔“
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ دراصل اس بات کا تعین کردے گا کہ مملکت خداداد پاکستان میں کرپشن کس حد تک ہے اور اس کا سدباب کیونکر ممکن ہے۔یاد رکھا جائے کہ مہذب معاشروں میں عدالتوں کے فیصلوںکو تسلیم کیا جاتا ہے۔ مملکت خداداد پاکستان میں بھی وقت آگیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ اب سیاسی جماعتوں کو دراصل اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے جو فیصلہ بھی آئے گا وہ اسے تسلیم کریں گے۔اس میں دوآراءنہیں کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ ملکی تاریخ کا ایک اور اہم فیصلہ ہوگا۔کم وبیش '57 روز کے انتظار کے بعد آنے والے فیصلہ سے امید کرنی چاہے کہ اس کے نتیجے میں ملک وملت کی مشکلات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ بلاشبہ اس میں کسی کو بھی ابہام نہیں ہونا چاہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حق اورسچ کی ترجمانی کرے گا چنانچہ اس پس منظر میں20 اپریل کوحق کی فتح اورجھوٹ خاک آلود ہوگا اور یہ دن ملکی تاریخ کا سنہرا دن ثابت ہوگا۔ایک خیال یہ ہے کسی کو خوش فہمی نہیں ہونی چاہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ اس کی خواہشات کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا بلکہ ہر کسی کو یہ یقین رکھنا ہوگا کہ آئین اور قانون کی بالادستی پر مہر تصدیق ثبت کردی جائیگی۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔بعدازاں سپریم کورٹ نے 20 اکتوبر 2016 کو وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن ریٹائر صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین ایف بی آر اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی، بعد ازاں سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ۔
دراصل گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے ۔پاناما لیکس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح دنیا بھر کے امیر اور طاقت ور لوگ اپنی دولت چھپانے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے بیرون ملک اثاثے بناتے ہیں۔صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم Consortium of Investigative Journalists) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل تھا جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی 'آف شور' کمپنیوں کا ریکارڈ سامنے لایا گیا تھا۔
پاکستان میں پانامہ لیکس کا معاملہ قانونی سے کہیں زیادہ سیاسی رنگ اختیار کرگیا۔ دراصل ملک کے باشعور شہریوں کی غالب اکثریت اس پر یقین رکھتی ہے کہ وطن عزیز میں سیاست بڑی حد تک کاروبار ہے ۔ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ سیاست میں آنے سے پہلے بعض خاندان کی مالی حثیثت کیا تھی اور پھر مسند اقتدار پر فائز ہونے کے بعد کس انداز میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی گی۔ مقام افسوس یہ ہے کہ(ڈیک) تادم تحریر ایسی ایک بھی مثال موجود نہیں جب کسی طاقتور شخص نے ایسی سزا بھگتی جو دوسروں کے لیے باعث عبرت کہلائی۔ اس کے برعکس اکثر وبیشتر بااثر فرد قانون کے شنکجے سے باآسانی نکل گیا (ڈیک)۔ مذکورہ پس منظر کی روشنی میں پانامہ لیکس کا فیصلہ اور بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ پاکستان بدل چکا۔ پاکستان میں انصاف فراہم کرنے والے ادارے اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہیں کہ کس طرح طاقتور افراد اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے عدلیہ کو ہدف بناتے چلے آرہے ۔ دراصل یہی وہ صورت حال ہے جس کے نتیجے میں باشعور پاکستانیوں نے عدلیہ کی جانب نظریں مبذول کررکھی ہیں۔

Scroll To Top